کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہ ان کی نسل ہے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا بیشک وہ شکر گزار بندے تھے۔
حدیث نمبر
4360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَشَ مِنْهَا نَهْشَةً ثُمَّ قَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ النَّاسُ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ عَلَيْکُمْ بِآدَمَ فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ نَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ إِنَّکَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَقَدْ سَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ کَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلَی قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ کُنْتُ کَذَبْتُ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ فَذَکَرَهُنَّ أَبُو حَيَّانَ فِي الْحَدِيثِ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُوسَی فَيَأْتُونَ مُوسَی فَيَقُولُونَ يَا مُوسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ عَلَی النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ فَيَأْتُونَ عِيسَی فَيَقُولُونَ يَا عِيسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ عِيسَی إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَائِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَائِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَی أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَکَائُ النَّاسِ فِيمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْأَبْوَابِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَحِمْيَرَ أَوْ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَبُصْرَی
محمد بن مقاتل، عبد ﷲ، ابوحیان التیمی، ابوزرعہ بن عمرو بن جریر، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو آپ کو ایک دست اٹھا کردی گئی کیونکہ دست کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا آپ نے اس کو تناول فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ میں قیامت کے دن سب کا سردار ہوں کیا تم کو معلوم ہے کہ روز قیامت تمام اولین و آخرین ایک ہی میدان میں جمع کیے جائیں گے وہ میدان ایسا ہموار اور وسیع ہوگا کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب سن سکیں گے اور دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے گا سورج بہت قریب آ جائے گا لوگوں کو ایسی تکلیف ہوگی کہ برداشت نہ کر سکیں گے وہ کہیں گے دیکھو! کتنی بڑی تکلیف ہو رہی ہے کسی سفارشی کو تلاش کرو بعض کی رائے ہوگی کہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلو لہذا سب ان کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ ابوالبشر ہیں ﷲ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور اپنی روح آپ میں پھونکی ہے اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا ہے ہماری سفارش فرمائیے دیکھئے ہم کیسی تکلیف میں مبتلا ہیں حضرت آدم جواب دیں گے کہ آج میرا رب بہت غصہ میں ہے اس نے مجھے ایک درخت کے قریب جانے سے روکا تھا تو میں اس سے شرمندہ ہوں اور وہ نفسی نفسی کہیں گے اور فرمائیں گے کہ تم سب حضرت نوح کے پاس جاؤ وہ سب حضرت نوح کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ پہلے نبی ہیں اور خدا نے آپ کو اپنے شکر گزار بندے کے نام سے یاد فرمایا ہے لہذا آپ ہماری سفارش کیجئے کیونکہ ہماری حالت بہت خراب ہو رہی ہے حضرت نوح فرمائیں گے کہ آج ﷲ تعالیٰ بہت غصہ میں ہے میں نے ایسا غصہ کبھی نہیں دیکھا اور اس نے تو مجھے ایک دعا دی تھی وہ میں اپنی امت کے لئے مانگ چکا ہوں پھر وہ بھی نفسی نفسی فرمائیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ خلیل ﷲ ہیں اور ﷲ کے پیغمبر ہیں آپ ہمارے لئے شفاعت کیجئے وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ آج ﷲ تعالیٰ بہت غصہ میں ہے غصہ جو نہ پہلے آیا اور نہ پھر آئے گا اور میں نے دنیا میں یہ خطا کی تھی کہ تین جھوٹ بولے تھے ابوحیان نے ان تینوں جھوٹوں کا بھی بیان کیا ہے پھر وہ بھی نفسی نفسی پکاریں گے اور لوگوں سے فرمائیں گے کہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ چناچہ تمام لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ ﷲ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں خدا نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کو لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی ہے آپ ہماری شفاعت فرمایئے دیکھے ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے آج تو میرا رب بہت خفا ہے اس سے پہلے اتنے غصہ میں نہیں آیا اور نہ آئندہ آئے گا میں نے دنیا میں ایک خطا کی تھی ایک آدمی کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا حکم نہیں تھا آج مجھے نفسی نفسی پڑی ہے- تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ سب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ ﷲ کے رسول ہیں اور وہ کلمہ ہیں جو ﷲ نے مریم پر ڈالا تھا آپ ﷲ کی روح ہیں آپ نے بچپن میں لوگوں سے باتیں کی ہیں لہذا ہماری سفارش کیجئے دیکھئے ہم کیسی مصیبت میں مبتلا ہیں وہ فرمائیں گے آج میرا رب بہت غصہ میں ہے نہ پہلے ایسا غصہ آیا نہ آئندہ آئے گا پھر وہ دنیا کا کوئی گناہ بیان نہیں کریں گے اور صرف نفسی نفسی فرمائیں گے اور کہیں گے آج تو تم حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ لوگ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ﷲ کے رسول! آپ خاتم الانبیاء ہیں ﷲ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے آپ ہماری شفاعت فرمایئے دیکھئے! ہم کیسی تکلیف میں ہیں اس وقت میں عرش کے نیچے سجدہ میں گر جاؤں گا خدا تعالیٰ اپنی حمد و تعریف کا ایسا طریقہ مجھ پر منکشف فرمائے گا جو اس سے قبل کسی کو نہیں بتایا گیا لہذا میں اس طرح اس کی حمد بجا لاؤں گا پھر حکم باری ہوگا اے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! اپنے سر کو اٹھایئے اور مانگئے جو آپ مانگنا چاہتے ہیں جو شفاعت آپ کریں گے قبول کی جائے گی میں سجدے سے سر کو اٹھا کر امتی امتی کہوں گا حکم ہوگا اے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! اپنی امت میں ان ستر ہزارلوگوں کو جن کا حساب کتاب نہیں ہوگا داہنے دروازے سے جنت میں داخل کردیجئے اور ان کو بھی اختیار ہے جس دروازے سے چاہیں داخل ہو جائیں اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جنت کے ایک دروازہ کی چوڑائی اتنی ہے جیسا مکہ اور حمیر کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصری کے درمیان کی مسافت-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment