کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کہدو! کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو عمل کے اعتبار سے خسارا اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔
حدیث نمبر
4376
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبِي قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا هُمْ الْحَرُورِيَّةُ قَالَ لَا هُمْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَی أَمَّا الْيَهُودُ فَکَذَّبُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا النَّصَارَی فَکَفَرُوا بِالْجَنَّةِ وَقَالُوا لَا طَعَامَ فِيهَا وَلَا شَرَابَ وَالْحَرُورِيَّةُ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَکَانَ سَعْدٌ يُسَمِّيهِمْ الْفَاسِقِينَ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، مصعب بن سعد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے معلوم کیا کہ کیا جن لوگوں کاذکر اس آیت میں یعنی(قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًاالخ) میں ہے وہ حروریہ گاؤں کے لوگ ہیں آپ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ یہودی ہیں اور نصاریٰ ہیں کیونکہ یہودیوں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلایا اور نصاریٰ جنت کا یقین نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہاں تو کھانے پینے کی کوئی بھی چیز نہیں ہے اور حروریہ وہ ہیں کہ جنہوں نے عہد شکنی کی تھی اور سعید ان کو فاسق کہتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment