Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1722,TotalNo:4258


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم کو سفر میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔
حدیث نمبر
4258
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَائِ وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ فَثَنَی رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا أَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ فَلَکَزَنِي لَکْزَةً شَدِيدَةً وَقَالَ حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ فَبِي الْمَوْتُ لِمَکَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَوْجَعَنِي ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَحَضَرَتْ الصُّبْحُ فَالْتُمِسَ الْمَائُ فَلَمْ يُوجَدْ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِ الْآيَةَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لَقَدْ بَارَکَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيکُمْ يَا آلَ أَبِي بَکْرٍ مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَکَةٌ لَهُمْ
یحیٰی بن سلیمان، ابن وہب، عمرو بن حارث، عبد الرحنٰ بن قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم مدینہ کو واپس آرہے تھے کہ راستہ میں مقام بیداء میں میرا ہار گم ہوگیا جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھادیا اور اسی جگہ ٹھہر گئے اور آرام کرنے لگے اور اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ لیا تھوڑی دیر میں میرے باپ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آئے اور میرے سینہ پر ہاتھ مار کرکہا تم نے سب لوگوں کو یہاں روک کر بڑی پریشانی میں ڈال دیا ہے مجھے بڑی تکلیف ہوئی مگر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے خیال سے برداشت کر گئی اور خاموش رہی صبح کو جب آحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جاگے تو پانی طلب کیا مگر پانی موجود نہیں تھا چناچہ اس وقت آیت (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِآخر تک) نازل ہوئی اس موقع پر اسید بن حضیر نے کہا کہ اے اولاد ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ! تم لوگوں کیلئے باعث برکت و رحمت ہو کہ تمہاری وجہ سے آیت تیّمم نازل ہوئی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment