Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1667,TotalNo:4203


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کہہ دیجئے اے اہل کتاب آؤ ایک کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔
حدیث نمبر
4203
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی عَنْ هِشَامٍ عَنْ مَعْمَرٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ مِنْ فِيهِ إِلَی فِيَّ قَالَ انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيئَ بِکِتَابٍ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی هِرَقْلَ قَالَ وَکَانَ دَحْيَةُ الْکَلْبِيُّ جَائَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَی عَظِيمِ بُصْرَی فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَی إِلَی هِرَقْلَ قَالَ فَقَالَ هِرَقْلُ هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَی هِرَقْلَ فَأُجْلِسْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّکُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ کَذَبَنِي فَکَذِّبُوهُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ يُؤْثِرُوا عَلَيَّ الْکَذِبَ لَکَذَبْتُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ کَيْفَ حَسَبُهُ فِيکُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ فَهَلْ کَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِکٌ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ کُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ أَيَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَکَيْفَ کَانَ قِتَالُکُمْ إِيَّاهُ قَالَ قُلْتُ تَکُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قَالَ قُلْتُ لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا قَالَ وَاللَّهِ مَا أَمْکَنَنِي مِنْ کَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ لَا ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُکَ عَنْ حَسَبِهِ فِيکُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيکُمْ ذُو حَسَبٍ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُکَ هَلْ کَانَ فِي آبَائِهِ مَلِکٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ کَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِکٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْکَ آبَائِهِ وَسَأَلْتُکَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ کُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ لِيَدَعَ الْکَذِبَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَکَذَلِکَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يُزِيدُونَ وَکَذَلِکَ الْإِيمَانُ حَتَّی يَتِمَّ وَسَأَلْتُکَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّکُمْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَکُونُ الْحَرْبُ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْکُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْتَلَی ثُمَّ تَکُونُ لَهُمْ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُکَ هَلْ قَالَ أَحَدٌ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ کَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُکُمْ قَالَ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَکُ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَکُ أَظُنُّهُ مِنْکُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَائَهُ وَلَوْ کُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْکُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِکِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَی مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَی أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوکَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِکَ اللَّهُ أَجْرَکَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْکَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ يَا أَهْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلِمَةٍ سَوَائٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَکُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ إِلَی قَوْلِهِ اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَائَةِ الْکِتَابِ ارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَکَثُرَ اللَّغَطُ وَأُمِرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي کَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِکُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّی أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَدَعَا هِرَقْلُ عُظَمَائَ الرُّومِ فَجَمَعَهُمْ فِي دَارٍ لَهُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الرُّومِ هَلْ لَکُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرَّشَدِ آخِرَ الْأَبَدِ وَأَنْ يَثْبُتَ لَکُمْ مُلْکُکُمْ قَالَ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَی الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ فَقَالَ عَلَيَّ بِهِمْ فَدَعَا بِهِمْ فَقَالَ إِنِّي إِنَّمَا اخْتَبَرْتُ شِدَّتَکُمْ عَلَی دِينِکُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْکُمْ الَّذِي أَحْبَبْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ
ابراہیم بن موسیٰ، ہشام، معمر، عبد ﷲ بن محمد، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ، حضرت ابن عباد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابوسفیان نے یہ حدیث میرے سامنے بیان کی کہ جب ہماری اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی صلح تھی اس وقت میں ملک شام میں تھا اسی زمانہ میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا خط دحیہ الکلبی لے کر ہرقل کے پاس آئے تھے پہلے یہ خط دحیہ نے بصری کے سردار کو دیا اس نے ہرقل کے پاس بھیج دیا ہرقل نے خط پڑھ کر کہا کہ دیکھو یہ جس کا خط ہے اور جو نبوت کا دعویٰ بھی کرتا ہے اس کی قوم کا کوئی آدمی یہاں ہے، لوگوں نے کہا ہاں! اس کی قوم کے لوگ یہاں موجود ہیں ابوسفیان کا بیان ہے کہ میں اور میرے چند قریبی ساتھی ہرقل کے دربار میں بلائے گئے تو اس نے ہم کو اپنے سامنے بٹھایا پھر پوچھا کہ تم میں اس (پیغمبر) کا قریبی رشتہ دار کون ہے؟ میں نے کہا میں ہوں اس نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور دوسرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا اور پھر اپنے ایک آدمی سے کہا کہ تم ابوسفیان کے ساتھیوں سے کہو کہ میں محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ابوسفیان سے کچھ دریافت کروں گا اگر یہ غلط بیانی سے کام لے تو تم اس کی تردید کردینا ابوسفیان نے بیان کیا کہ اگر مجھے اپنے ہمراہیوں کا خوف نہ ہوتا (کہ مجھے جھٹلادیں گے) تو ضرور کچھ غلط باتیں بھی کہتا آخر پر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے محمد (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) کا حسب دریافت کرو انہوں نے پوچھا تو میں نے کہا کہ وہ محمد (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سب سے زیادہ عالی حسب ہیں، پھر اس نے دریافت کیا کہ کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ تو میں نے جواب دیا نہیں پھر اس نے دریافت کیا کیا تم نے دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی ان کو جھوٹ بولتے سنا ہے؟ میں نے کہا نہیں، پھر اس نے پوچھا کہ اس کی اطاعت میں امیر لوگ آتے ہیں یا غریب؟ میں نے جواب دیا غریب، پھر اس نے دریافت کیا کہ ان کے ماننے والے زیادہ ہورہے ہیں یا کم؟ میں نے جواب دیا کہ بڑھتے جارہے ہیں، پھر اس نے پوچھا کہ اس کے ماننے والوں میں سے کبھی کوئی اپنے مذہب سے پھر بھی جاتا ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں، پھر اس نے پوچھا کیا تم نے اس سے کبھی جنگ بھی کی ہے اور اس کی کیا صورت رہی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ کبھی وہ غالب ہوئے اور کبھی ہم، پھر اس نے پوچھا کہ کیا محمد (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں، مگر آج کل ہمارا اور ان کا ایک معاہدہ ہواہے معلوم نہیں اس کی کیا صورت ہوتی ہے، ابوسفیان نے بیان کیا کہ مجھ کو سوائے اس آخری بات کے کچھ زیادہ بڑھانے کی گنجائش نہیں ملی پھر اس نے پوچھا کیا محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی کبھی کسی نے ان کے خاندان سے اس طرح کا دعویٰ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں، اس کے بعد ہرقل نے کہا اے ترجمان! تو ابوسفیان سے کہہ دے کہ تم سے ان کا حسب پوچھا گیا تو تم نے کہا کہ وہ عالی حسب ہے اور پیغمبر ہمیشہ عالی حسب ہوتے ہیں، پھر پوچھا گیا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہے تم نے کہا نہیں ہرقل کا بیان ہے کہ اس سوال کے وقت میں نے سوچا تھا کہ اگر سفیان نے کہا کہ کوئی بادشاہ ہوا ہے تو میں کہہ دوں گا کہ دعویٰ نبوت غلط ہے اپنے ملک کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، میں نے ان کے ماننے والوں کے متعلق پوچھا کہ وہ امیر ہیں یا غریب تو تم نے کہا غریب اور پیغمبروں کے ماننے والے اکثر غریب ہی ہوتے ہیں، اور میں نے پوچھا کہ تم نے اس کو کبھی جھوٹ بولتے سنا ہے تو تم نے کہا نہیں اس لئے میں جان گیا کہ بیشک جو لوگوں پر جھوٹ نہیں بولتا تو ﷲ تعالیٰ پر وہ کیسے جھوٹ بولے گا، اور میں نے تجھ سے سوال کیا کہ اس کے دین سے کوئی بد ظن ہوکر پھر بھی گیا ہے تو تم نے کہا نہیں لہذا ایمان کی علامت یہی ہے کہ جب وہ دل میں بیٹھ جاتا ہے تو پھر نکلتا نہیں ہے، پھر میں نے پوچھاکہ اس کے ماننے والے بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا کہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان کی یہی خاصیت ہے کہ وہ بڑھتا ہی رہتا ہے، پھر میں نے پوچھا کہ کیا تم نے ان سے کبھی جنگ بھی کی ہے تو تم نے کہا ہاں! اور اس میں کبھی وہ کبھی ہم غالب رہے ہیں اور رسولوں کی یہی حالت ہوا کرتی ہے اور آخر وہی فتح پاتے ہیں، پھر میں نے پوچھا کہ وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں یا نہیں تو تم نے کہا کہ نہیں اور رسول وعدہ خلافی کبھی نہیں کرتے، پھر میں نے تم سے پوچھا کہ اس سے پہلے بھی کبھی کسی نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو تم نے کہا نہیں ہرقل کا بیان ہے کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر کسی نے دعویٰ کیا ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ یہ نبی نہیں ہے بلکہ اپنے پہلے والے کی پیروی کر رہا ہے، پھر تم سے میں نے پوچھا کہ محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تم کو کس بات کا حکم دیتے ہیں تو تم نے کہا کہ وہ نماز، زکوۃ، صلہ رحمی اور پرہیز گاری کا حکم دیتے ہیں اس کے بعد ہرقل نے کہا کہ اگر تو اپنے بیان میں سچا ہے تو بیشک وہ سچے نبی ہیں اور میں جانتا تھا کہ وہ پیدا ہونے والے ہیں مگر یہ معلوم نہ تھا کہ وہ تم میں پیدا ہوں گے اگر یہ معلوم ہوتا تو میں ان سے ضرور ملاقات کرتا اور ان کے دیدار سے مستفیض ہوتا اور ان کے پاؤں دھو کر پیتا اور ان کی حکومت ضرور میرے ان قدموں تک پہنچے گی اس کے بعد ہرقل نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے خط کو دوبارہ پڑھا مضمون یہ تھا ﴿بسم ﷲ الرحمن الرحیم﴾ یہ خط محمد رسول ﷲ کی طرف سے ہے روم کے بادشاہ ہرقل کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو دین حق کی پیروی کرے گا اس پر سلام، میں تم کو کلمہ اسلام کی طرف بلاتا ہوں اگر تو نے اسلام قبول کرلیا تو سلامت رہے گا اور دوگنا ثواب تم کو ﷲ تعالیٰ عطا فرمائے گا اور اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو تمام رعایا کے اسلام نہ لانے کا گناہ بھی تیرے ہی سر رہے گا، اے اہل کتاب! جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے اس کی طرف آؤ اور وہ بات یہ ہے کہ ہم تم خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں آخر آیت تک ابوسفیان نے کہا کہ ہرقل جب خط سے فارغ ہوا تو دربار میں عجیب ہلچل مچ گئی اور پھر ہم کو باہر کردیا گیا میں نے باہر نکلتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ یعنی رسول ﷲ کے کام میں بڑی مضبوطی پیدا ہو گئی ہے اور اب اس سے بادشاہ بھی ڈرنے لگے ہیں میں تو کفر کی حالت میں یقین رکھتا تھا کہ آپ کو ضرور غلبہ ہوگا زہری کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہرقل نے تمام رؤسا کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کہا کہ اے اہل روم! کیا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ سلامت رہو اور تمہارے ملک تمہارے ہاتھ میں رہیں تو ہدایت اور ہمیشہ کی سلامتی کی طرف آؤ راوی کا بیان ہے کہ لوگ یہ بات سن کر سخت ناراض ہوکر دروازوں کی طرف بھاگے مگر دروازے بند پائے، ہرقل نے کہا بھاگو نہیں میرے قریب آؤ سب آ گئے تو ہرقل نے کہا میں تم لوگوں کا امتحان لے رہا تھا میں خوش ہوں کہ تم اپنے دین پر قائم اور ثابت ہو اس کے بعد خوش ہو گئے اور ہرقل کو سجدہ کرکے واپس چلے گئے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment