کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
ارشاد خداوندی من کان عدوا لجبریل کی تفسیر۔
حدیث نمبر
4133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُکَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَمَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَی أَبِيهِ أَوْ إِلَی أُمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ جِبْرِيلُ قَالَ نَعَمْ قَالَ ذَاکَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنْ الْمَلَائِکَةِ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللَّهِ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنْ الْمَشْرِقِ إِلَی الْمَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْکُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ کَبِدِ حُوتٍ وَإِذَا سَبَقَ مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَائُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ يَبْهَتُونِي فَجَائَتْ الْيَهُودُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ فِيکُمْ قَالُوا خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِکَ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَانْتَقَصُوهُ قَالَ فَهَذَا الَّذِي کُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا
عبد ﷲ بن منیرعبد ﷲ بن بکر حمید حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہودی عالم عبد ﷲ بن سلام باغیچہ میں میوہ توڑ رہے تھے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ہوئی وہ فورا حاضر خدمت ہوئے اور رسول خدا سے عرض کیا کہ میں آپ سے تین باتیں معلوم کرنا چاہتا ہوں جن کو ما سوائے نبی کے اور کوئی نہیں بتا سکتا ایک یہ کہ قیامت کی پہلی علامت کیا ہوگی دوسرے یہ کہ جنتی سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے تیسرے یہ کہ بچہ اپنے باپ یا ماں کے مشابہ کس وجہ سے ہوتا ہے آپ نے فرمایا مجھے ابھی جبریل بتا کر گئے ہیں، ابن سلام نے کہا، جبریل! وہ تو یہودیوں کا سب فرشتوں میں سب سے بڑا دشمن ہے، اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی (مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللَّهِ) آخر تک اس کے بعد آپ نے فرمایا قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ ایک آگ اٹھے گی جو آدمیوں کو مشرق سے مغرب کی طرف بھگا کر لے جائے گی اور جنتیوں کو سب سے پہلے مچھلی کا جگر کھانے کو ملے گا اور بچہ کے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مرد عورت میں سے جس کا مادہ منویہ غالب رہتا ہے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے اگر ماں کا غالب ہے تو ماں سے اگر باپ کا غالب ہے تو باپ سے عبد ﷲ بن سلام نے اس کے بعد کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷲ کے سچے رسول ہیں اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ابن سلام نے کہا یا رسول ﷲ! یہودی بری جھوٹی قوم ہے اور بہت مفتری، ان کو میرا مسلمان ہونا بہت ناگوار ہوگا اور وہ برے بہتان میرے اوپر تراشیں گے اتنے میں کچھ یہود آپ کے پاس آئے ابن سلام نے کہا کہ آپ میرے متعلق ان سے سوال کریں (اور خود آڑ میں ہو گئے) پھر آپ نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ابن سلام کو کیسا جانتے ہو انہوں نے کہا کہ وہ بہت اچھا آدمی ہے اور اچھے آدمی کا بیٹا ہے ہمارا سردار ہے اور سردار کا فرزند ہے آپ نے فرمایا اگر وہ مسلمان ہوجائے یہود نے کہا خدا اسے اس سے پناہ دے ابن سلام سن کر باہر نکل آئے اور کہا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ یہودیوں نے یہ دیکھ کر کہا ابن سلام ہم میں بہت ذلیل اور ذلیل آدمی کا فرزند ہے اور بہت سی برائیاں کرنے لگے عبد ﷲ بن سلام نے کہا کہ یا رسول ﷲ مجھے تو پہلے ہی ڈر تھا کہ یہ لوگ برا کہنے لگیں گے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment