کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ تم میں مالدار اور وسعت والے ہیں۔
حدیث نمبر
4405
وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ذُکِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُکِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَهْلِي مِنْ سُوئٍ وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوئٍ قَطُّ وَلَا يَدْخُلُ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ نَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ وَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ وَکَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِکَ الرَّجُلِ فَقَالَ کَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ کَانُوا مِنْ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تُضْرَبَ أَعْنَاقُهُمْ حَتَّی کَادَ أَنْ يَکُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ شَرٌّ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا عَلِمْتُ فَلَمَّا کَانَ مَسَائُ ذَلِکَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ وَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ أَيْ أُمِّ تَسُبِّينَ ابْنَکِ وَسَکَتَتْ ثُمَّ عَثَرَتْ الثَّانِيَةَ فَقَالَتْ تَعَسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ لَهَا أَيْ أُمِّ أَتَسُبِّينَ ابْنَکِ فَسَکَتَتْ ثُمَّ عَثَرَتْ الثَّالِثَةَ فَقَالَتْ تَعَسَ مِسْطَحٌ فَانْتَهَرْتُهَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيکِ فَقُلْتُ فِي أَيِّ شَأْنِي قَالَتْ فَبَقَرَتْ لِي الْحَدِيثَ فَقُلْتُ وَقَدْ کَانَ هَذَا قَالَتْ نَعَمْ وَاللَّهِ فَرَجَعْتُ إِلَی بَيْتِي کَأَنَّ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا کَثِيرًا وَوُعِکْتُ فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْنِي إِلَی بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَوَجَدْتُ أُمَّ رُومَانَ فِي السُّفْلِ وَأَبَا بَکْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَقَالَتْ أُمِّي مَا جَائَ بِکِ يَا بُنَيَّةُ فَأَخْبَرْتُهَا وَذَکَرْتُ لَهَا الْحَدِيثَ وَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مِثْلَ مَا بَلَغَ مِنِّي فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ خَفِّفِي عَلَيْکِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا کَانَتْ امْرَأَةٌ حَسْنَائُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقِيلَ فِيهَا وَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي قُلْتُ وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي قَالَتْ نَعَمْ قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْبَرْتُ وَبَکَيْتُ فَسَمِعَ أَبُو بَکْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ فَقَالَ لِأُمِّي مَا شَأْنُهَا قَالَتْ بَلَغَهَا الَّذِي ذُکِرَ مِنْ شَأْنِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ قَالَ أَقْسَمْتُ عَلَيْکِ أَيْ بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَی بَيْتِکِ فَرَجَعْتُ وَلَقَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ عَنِّي خَادِمَتِي فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا کَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّی تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْکُلَ خَمِيرَهَا أَوْ عَجِينَهَا وَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَی تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ وَبَلَغَ الْأَمْرُ إِلَی ذَلِکَ الرَّجُلِ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کَشَفْتُ کَنَفَ أُنْثَی قَطُّ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا حَتَّی دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَقَدْ اکْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ کُنْتِ قَارَفْتِ سُوئًا أَوْ ظَلَمْتِ فَتُوبِي إِلَی اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْ عِبَادِهِ قَالَتْ وَقَدْ جَائَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ فَقُلْتُ أَلَا تَسْتَحْيِ مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَذْکُرَ شَيْئًا فَوَعَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتُّ إِلَی أَبِي فَقُلْتُ لَهُ أَجِبْهُ قَالَ فَمَاذَا أَقُولُ فَالْتَفَتُّ إِلَی أُمِّي فَقُلْتُ أَجِيبِيهِ فَقَالَتْ أَقُولُ مَاذَا فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَاهُ تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قُلْتُ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَکُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاکَ بِنَافِعِي عِنْدَکُمْ لَقَدْ تَکَلَّمْتُمْ بِهِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُکُمْ وَإِنْ قُلْتُ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ لَتَقُولُنَّ قَدْ بَائَتْ بِهِ عَلَی نَفْسِهَا وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَکُمْ مَثَلًا وَالْتَمَسْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ وَأُنْزِلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَاعَتِهِ فَسَکَتْنَا فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَيَقُولُ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَائَتَکِ قَالَتْ وَکُنْتُ أَشَدَّ مَا کُنْتُ غَضَبًا فَقَالَ لِي أَبَوَايَ قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُکُمَا وَلَکِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَائَتِي لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْکَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ وَکَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ أَمَّا زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَکَتْ فِيمَنْ هَلَکَ وَکَانَ الَّذِي يَتَکَلَّمُ فِيهِ مِسْطَحٌ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ وَهُوَ الَّذِي کَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَةُ قَالَتْ فَحَلَفَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ يَعْنِي أَبَا بَکْرٍ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِينَ يَعْنِي مِسْطَحًا إِلَی قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَکُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ حَتَّی قَالَ أَبُو بَکْرٍ بَلَی وَاللَّهِ يَا رَبَّنَا إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا وَعَادَ لَهُ بِمَا کَانَ يَصْنَعُ
ابو اسامہ، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جس وقت لوگوں نے میرے متعلق جھوٹا الزام مشہور کیا اور مجھے اس کا صحیح حال معلوم نہ تھا لہذا ایک دن آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھا کلمہ تشہد کے بعد ﷲ کی حمد و ثناء بیان کی اس کے بعد آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی کو اتہام لگایا ہے خدا گواہ ہے کہ میں نے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا میں کوئی برائی نہیں دیکھی ہے اور جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا ہے اس میں بھی کوئی برائی نہیں دیکھی ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ گھر میں آتا اور جاتا ہے سفر میں بھی میرے ہی ہمراہ رہتا ہے یہ بات سن کر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول ﷲ! حکم دیجئے تو تہمت لگانے والے کی گردن ماردوں اس کے بعد قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ اٹھے اور کہنے لگے کہ تو نے غلط کہا ہے اگر یہ تہمت لگانے والے خزرج کے لوگ ہیں تو تو انہیں کبھی نہیں مار سکتا اس کے بعد دونوں قبیلوں میں تکرار شروع ہو گئی اور مجھے کچھ واقفیت نہ تھی اس کے بعد میں شام کو ام مسطح کے ساتھ جنگل میں رفع حاجت کو گئی راستہ میں ام مسطح کے پاؤں میں چادر الجھ گئی اس نے کہا مسطح ہلاک ہو میں نے کہا اپنے بیٹے کو کیوں کوستی ہے؟ اس نے پھر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی اسی طرح کوسا میں نے ذرا جھڑ ک کر وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں تمہاری وجہ سے اسے کوستی ہوں میں نے کہا میری وجہ سے؟ کیا مطلب؟ تو اس نے کہا کہ وہ بھی تہمت لگانے والوں میں شامل ہے میں نے پوچھا کیا یہ بات مشہور ہو گئی ہے؟ اس نے کہا اچھی طرح میں جلدی سے گھبرائی ہوئی اپنے گھر آئی اور یہ بھی بھول گئی کہ کہاں گئی تھی اور کہاں سے آئی ہوں بس بیمار پڑ گئی تو میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ میں اپنے باپ کے گھر جانا چاہتی ہوں تو آپ نے ایک غلام کومیرے ہمراہ کردیا جب میں گھر آئی تو میری والدہ ام رومان نیچے تھیں اور (میرے والد) حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ گھر کے اوپر کچھ پڑھنے میں مصروف تھے ماں نے پوچھا بیٹی کیسے آنا ہوا؟ میں نے بہتان کا تمام واقعہ سنا دیا مگر انہیں میری طرح بہت زیادہ رنج نہیں ہوا اور کہا اے میری بیٹی! تو اتنی فکر کیوں کرتی ہے؟ تو اپنے آپ کو سنبھال ایسا تو ہوتا چلا آیا ہے جب کسی مرد کے پاس کوئی خوبصورت بیوی ہوتی ہے جس سے مرد کو محبت ہوتی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو وہ اس پر حسد کرتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بناتی ہیں غرض میری ماں پر اس طوفان کا وہ صدمہ نہیں ہوا جیسا صدمہ مجھے ہوا میں نے پوچھا کیا اس قصہ کی خبر والد کو بھی ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے کہا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو بھی؟ انہوں نے کہا ہاں! ان کو بھی خبر ہے اس کے بعد میں رونے لگی میری آواز سن کر والد بھی نیچے آ گئے اور رونے کی وجہ پوچھی تو ماں نے کہا اس تہمت کے خیال سے روتی ہے انہوں نے مجھ سے کہا کہ میری بیٹی! بس تم اپنے گھر چلی جاؤ میں گھر آگئی پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور میری باندی سے میرے حالات دریافت کئے باندی نے جواب دیا کہ میں نے ﷲ کی قسم! اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی ہے صرف یہ بھولی بھالی اور سیدھی سادھی ہیں آٹا گوندھ کر چھوڑ دیتی ہیں اور بکری آکر کھالیتی ہے آپ کے اصحاب میں سے بعض نے لونڈی کو ڈانٹ کر کہا کہ تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سچ سچ کیوں نہیں کہہ دیتی تو اس نے کہا سبحان ﷲ! میں ان کو اس طرح جانتی ہوں جس طرح سنار سونے کی ڈلی کو جانتا ہے یہ خبر صفوان کو بھی ہوئی تو اس نے کہا سبحان ﷲ! جب سے میری بیوی کا انتقال ہوا ہے میں نے کسی عورت کے منہ کو بری نیت سے نہیں دیکھا ہے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ صفوان ﷲ کی راہ میں قتل کئے گئے- دوسرے دن میرے والدین میرے گھر آئے اور بیٹھے رہے یہاں تک کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے عصر کی نماز ہو چکی تھی میرے ماں باپ مجھے پکڑے ہوئے تھے (بوجہ رونے اور بیماری کے) ایک انصاریہ عورت بھی آئی ہوئی تھی اور بیٹھی تھی آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا اے عائشہ! اگر تم سے گناہ ہوگیا ہے تو ﷲ کی طرف توبہ کرو ﷲ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے میں نے کہا آپ اس عورت کے سامنے مجھے ایسی بات فرما رہے ہیں اس بات کا تو آپ کو خیال رکھنا چاہئے تھا پھر اس کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو نصیحت فرمائی میں نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ میری طرف سے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیں تو انہوں نے کہا میں کیا جواب دوں؟ پھر میں نے اپنی ماں کی طرف دیکھا کہ آپ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیں انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں کیا جواب دوں؟ آخر میں نے ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد عرض کیا کہ خدا کی قسم! اگر میں یہ کہوں کہ یہ کام میں نے نہیں کیا ہے اور خدا کو گواہ کروں تب بھی آپ لوگ یقین نہیں کریں گے کیونکہ آپ کے دلوں میں لوگوں کی باتیں گھر کر چکی ہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ مجھ سے ایسا ہوگیا ہے اور ﷲ تعالیٰ کو علم ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا لیکن آپ سب یقین کرلیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہاں اب اس نے اقرار کرلیا ہے در حقیقت میری اور آپ کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے والد کی کہ انہوں نے کہا تھا کہ (فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ) یعنی میں اچھی طرح صبر کروں گا اور ﷲ تعالیٰ مدد گار ہے جو تم بیان کرتے ہو اس کے فورا بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور ہم سب خاموش ہو گئے وحی کے بعد آپ خوش ہوکر فرمانے لگے کہ عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا تم کو خوش ہو جانا چاہئے کہ ﷲ تعالیٰ نے تمہاری برات اور نجات کا حکم نازل فرمایا ہے اس وقت اس خیال سے مجھے بہت ملال ہوا کہ دیکھو میری بات سے ان کو یقین نہیں آیا پھر میرے والدین نے مجھ سے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کرو میں نے کہا و ﷲ میں ان کے پاس نہیں جاؤں گی اور نہ شکریہ ادا کروں گی میں تو اپنے ﷲ کا شکریہ ادا کروں گی کہ اس نے مجھے برات کی بشارت سنائی ورنہ تم نے افواہ کو سن کر یقین ہی کرلیا تھا حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ﷲ نے اس قصہ میں زینب بنت جحش کو جو کہ آپ کی بیوی تھیں محفوظ رکھا- انہوں نے میرے متعلق بجز خیر کے اور کچھ نہیں کہا مگر ان کی بہن حمنہ تہمت لگانے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئی تہمت لگانے والوں میں یہ لوگ شامل تھے مسطح، حسان بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور منافق عبدﷲ بن ابی ، عبد ﷲ بن ابی بن سلول اور یہ شخص وہ ہے جو جھوٹ گھڑا کرتا تھا اور اس بہتان کی ابتداء اس کی اور حمنہ کی طرف سے ہوئی جب کہ وحی وغیرہ آ چکی تو میرے والد ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اب میں مسطح کو نان و نفقہ وغیرہ نہیں دوں گا تو اس وقت ﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی- (وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ الخ) یعنی صاحب مال و استطاعت (یعنی ابوبکر) قسم نہ کھائیں کہ ہم مساکین اور قرابت داروں (یعنی مسطح) کو نہیں دیں گے آخر آیت غفور رحیم تو حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ ﷲ ہم کو بخش دے اس کے علاوہ وہ اسی طرح مسطح کو نفقہ وغیرہ دینے لگے جیسے کہ پہلے دیتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment