کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے۔
حدیث نمبر
4421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي کِنْدَةَ فَقَالَ يَجِيئُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ يَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ کَهَيْئَةِ الزُّکَامِ فَفَزِعْنَا فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَغَضِبَ فَجَلَسَ فَقَالَ مَنْ عَلِمَ فَلْيَقُلْ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ لَا أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ وَإِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّی هَلَکُوا فِيهَا وَأَکَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ وَيَرَی الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَجَائَهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَکَ قَدْ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ فَقَرَأَ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَی قَوْلِهِ عَائِدُونَ أَفَيُکْشَفُ عَنْهُمْ عَذَابُ الْآخِرَةِ إِذَا جَائَ ثُمَّ عَادُوا إِلَی کُفْرِهِمْ فَذَلِکَ قَوْلُهُ تَعَالَی يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی يَوْمَ بَدْرٍ وَ لِزَامًا يَوْمَ بَدْرٍ الم غُلِبَتْ الرُّومُ إِلَی سَيَغْلِبُونَ وَالرُّومُ قَدْ مَضَی
محمد بن کیثر، سفیان، منصور، اعمش، ابوالضحیٰ، حضرت مسروق سے راویت ہیں کہ ایک شخص کندہ میں بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں سا پید اہو گا جو منافقوں کے کا ن اور آنکھ میں گھسے گا اور ایمانداروں کو زکام جیسا ہوجائے گا میں یہ سن کر ڈرا اور پھر عبد ﷲ بن مسعود کے پاس آیا وہ تکیہ کے سہارے بیٹھے تھے میں نے ان سے وہ واقعہ بیان کیا آپ کو غصہ آگیا فرمانے لگے کہ آدمی کو چاہئے جو بات معلوم ہو وہ بیان کرے ورنہ کہہ دے کہ ﷲ بہتر جا نتا ہے اس لئے کہ یہ بھی ایک طرح کا علم ہے کہ جو نہ معلوم ہو اس کیلئے کہہ دے کہ میں نہیں جا نتا ﷲ تعالیٰ اپنے رسول سے فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ ونصیحت پرکوئی صلہ تم سے نہیں چاہتا اور نہ میں تم سے کسی طرح کی بناوٹی باتیں کرتا ہوں اصل یہ ہے کہ اہل مکہ کے ایمان میں جب دیر ہوئی تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ سے عرض کیا کہ اے ﷲ! تو ان پر حضرت یوسف کے زمانہ کی طرح قحط مسلط کردے دعا قبول ہوئی قحط پڑا آدمی اور جانور مرنے لگے لوگ مردار کا گوشت کھانے لگے اور لوگوں کی آنکھوں میں دھواں دھواں سا نظر آنے لگا- چناچہ ابوسفیان آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ تو ہمیں ہمدردی اور صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہیں دیکھئے آپ کی قوم کے کتنے آدمی مرچکے ہیں لہذا آپ دعا فرمائیے چناچہ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اور پھر اس آیت کو پڑھا(فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَی قَوْلِهِ عَائِدُونَ) چونکہ اس آیت میں عذاب ہٹ جانے کا ذکر ہے جو صرف دنیاوی عذاب ہو سکتا ہے کیونکہ آخرت کا عذاب ہٹنے والا نہیں اور نہ ہی کافر وہاں اپنے کفر کی طرف لوٹ سکتا ہے لہذا دھوئیں سے مراد یہی قحط سالی والا دھواں ہے اور "البطشۃ" سے بدر کی لڑائی مراد ہے اور "الزام" کا مطلب بدر میں قید ہونا جنگ بدر اور واقعہ روم بھی گزر چکے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment