Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1668,TotalNo:4204


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے۔
حدیث نمبر
4204
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ نَخْلًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاکَ اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَايِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَايِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَفِي بَنِي عَمِّهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ  حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ مَالٌ رَايِحٌ
اسمٰعیل، مالک، اسحق بن عبد ﷲ بن ابی طلحہ، حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ کے انصار میں سے سب سے زیادہ باغات ابوطلحہ کے پاس تھے اور انہیں اپنے تمام باغوں میں بیرحاء سب سے زیادہ پسند تھا اور یہ باغ مسجد نبوی کے قریب تھا حضور اکثر وہاں تشریف لے جایا کرتے اور اس کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کو پیا کرتے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کھڑے ہوکر حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! آپ کو معلوم ہے کہ میں بیرحاء کو بہت پسند کرتا ہوں اور ﷲ فرماتا ہے کہ پسندیدہ چیز کو خرچ کرکے ہی تم نیکی کو پہنچ سکتے ہو لہذا میں بیرحاء کو ﷲ کے نام پر خیرات کرتا ہوں اور ﷲ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم جس طرح چاہیں اس باغ کو خدا کی مرضی کے مطابق استعمال میں لائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس سخاوت پر تحسین کی اور فرمایا یہ کام تم کو آخرت میں بہت فائدہ پہنچائے گا۔ اے ابوطلحہ! میں نے تمہاری نیت معلوم کرلی میرا خیال ہے کہ تم اس باغ کو اپنے غریب رشتہ داروں میں تقسیم کردو، ابوطلحہ نے عرض کیا بہت اچھا، پھر اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیا عبد ﷲ بن یوسف اور روح بن عبادہ کہتے ہیں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ذلک مال رائح یہ مال نفع دینے والا ہے بخاری کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے اس طرح یہ روایت کی ہے کہ ذلک مال رایح یعنی یہ مال فنا ہونے والا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment