Saturday, June 11, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1839,TotalNo:4375


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ وہاں سے آگے بڑھے تو اپنے ساتھی سے کہا کہ کھانا لاؤ۔
حدیث نمبر
4375
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَکَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ بِمُوسَی الْخَضِرِ فَقَالَ کَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ مُوسَی خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقِيلَ لَهُ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ قَالَ أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ وَأَوْحَی إِلَيْهِ بَلَی عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْکَ قَالَ أَيْ رَبِّ کَيْفَ السَّبِيلُ إِلَيْهِ قَالَ تَأْخُذُ حُوتًا فِي مِکْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَاتَّبِعْهُ قَالَ فَخَرَجَ مُوسَی وَمَعَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ وَمَعَهُمَا الْحُوتُ حَتَّی انْتَهَيَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَنَزَلَا عِنْدَهَا قَالَ فَوَضَعَ مُوسَی رَأْسَهُ فَنَامَ قَالَ سُفْيَانُ وَفِي حَدِيثِ غَيْرِ عَمْرٍو قَالَ وَفِي أَصْلِ الصَّخْرَةِ عَيْنٌ يُقَالُ لَهَا الْحَيَاةُ لَا يُصِيبُ مِنْ مَائِهَا شَيْئٌ إِلَّا حَيِيَ فَأَصَابَ الْحُوتَ مِنْ مَائِ تِلْکَ الْعَيْنِ قَالَ فَتَحَرَّکَ وَانْسَلَّ مِنْ الْمِکْتَلِ فَدَخَلَ الْبَحْرَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مُوسَی قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَائَنَا الْآيَةَ قَالَ وَلَمْ يَجِدْ النَّصَبَ حَتَّی جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِهِ قَالَ لَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ الْآيَةَ قَالَ فَرَجَعَا يَقُصَّانِ فِي آثَارِهِمَا فَوَجَدَا فِي الْبَحْرِ کَالطَّاقِ مَمَرَّ الْحُوتِ فَکَانَ لِفَتَاهُ عَجَبًا وَلِلْحُوتِ سَرَبًا قَالَ فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَی الصَّخْرَةِ إِذْ هُمَا بِرَجُلٍ مُسَجًّی بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَی قَالَ وَأَنَّی بِأَرْضِکَ السَّلَامُ فَقَالَ أَنَا مُوسَی قَالَ مُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ أَتَّبِعُکَ عَلَی أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا قَالَ لَهُ الْخَضِرُ يَا مُوسَی إِنَّکَ عَلَی عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَکَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ وَأَنَا عَلَی عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ قَالَ بَلْ أَتَّبِعُکَ قَالَ فَإِنْ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أُحْدِثَ لَکَ مِنْهُ ذِکْرًا فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَی السَّاحِلِ فَمَرَّتْ بِهِمْ سَفِينَةٌ فَعُرِفَ الْخَضِرُ فَحَمَلُوهُمْ فِي سَفِينَتِهِمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ يَقُولُ بِغَيْرِ أَجْرٍ فَرَکِبَا السَّفِينَةَ قَالَ وَوَقَعَ عُصْفُورٌ عَلَی حَرْفِ السَّفِينَةِ فَغَمَسَ مِنْقَارَهُ فِي الْبَحْرِ فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَی مَا عِلْمُکَ وَعِلْمِي وَعِلْمُ الْخَلَائِقِ فِي عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِقْدَارُ مَا غَمَسَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْقَارَهُ قَالَ فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَی إِذْ عَمَدَ الْخَضِرُ إِلَی قَدُومٍ فَخَرَقَ السَّفِينَةَ فَقَالَ لَهُ مُوسَی قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَی سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ الْآيَةَ فَانْطَلَقَا إِذَا هُمَا بِغُلَامٍ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَقَطَعَهُ قَالَ لَهُ مُوسَی أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُکْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَکَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا إِلَی قَوْلِهِ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَقَالَ بِيَدِهِ هَکَذَا فَأَقَامَهُ فَقَالَ لَهُ مُوسَی إِنَّا دَخَلْنَا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِکَ سَأُنَبِّئُکَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَی صَبَرَ حَتَّی يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا قَالَ وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ وَکَانَ أَمَامَهُمْ مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا
قتیبہ بن سعید، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ موسیٰ بنی اسرائیل کے نبی دوسرے تھے اور خضر والے موسیٰ دوسرے ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ ﷲ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے کیونکہ ابی بن کعب نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی امت میں وعظ کیا لوگوں نے پوچھا کہ تمام آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ موسیٰ نے کہا میں ہوں اور یہ نہیں کہا کہ ﷲ جاننے والا ہے چناچہ ﷲ تعالیٰ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور وحی نازل کی کہ میرے بندوں میں ایک بندہ ہے جو مجمع البحرین میں ہے اور تم سے زیادہ جاننے والا ہے موسیٰ نے کہا اے ﷲ! میں اس سے کس طرح مل سکتا ہوں؟ مجھے اس کا پتہ بتا، ارشاد ہوا کہ ایک مچھلی اپنی جھولی میں ڈال کر جاؤ جہاں وہ گم ہوجائے بس وہ اسی جگہ ہے حضرت موسیٰ نے ایسا ہی کیا اور اپنے خادم یوشع کو ہمراہ لے کر چلے اور ایک چٹان کے قریب پتھر پر سر رکھ کر سو گئے سفیان کہتے ہیں کہ قتادہ کی روایت میں ہے کہ اس چٹان کی جڑ میں ایک چشمہ تھا جس کو چشمہ آب حیات کہتے تھے جس مردے پر اس کا پانی پڑ جاتا وہ زندہ ہوجاتا، لہذا اس مچھلی پر بھی اس کا پانی پڑا جو زندہ ہو گئی اور سمندر میں تڑپ کر چلی گئی حضرت موسیٰ سو کر اٹھے اور خادم کے ساتھ آگے بڑھ گئے کچھ دورچل کر کہا ہمارا کھانا لاؤ اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ ہم اپنی مطلوبہ جگہ سے آگے بڑھ آئے ہیں چناچہ قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس لوٹے خادم نے کہا کہ میں آپ سے کہنا بھول گیا تھا کہ پتھر کے نزدیک مچھلی دریا میں گم ہو گئی تھی اور جس جگہ وہ گزری وہاں طاق کا سا نشان بنایا تھا غرض لوٹ کر جب اس جگہ پہنچے تو ایک بزرگ کو دیکھا جو کپڑے اوڑھے ہوئے تھا تو حضرت موسیٰ نے سلام کیا بزرگ نے کہا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ آپ نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ ہو؟ حضرت موسیٰ نے کہا جی ہاں! میں بنی اسرائیل کا موسیٰ ہو پھر حضرت موسیٰ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ مجھے اپنا علم سکھا دو؟ حضرت خضر نے کہا کہ اے موسیٰ! ﷲ تعالیٰ نے تمہیں جو علم دیا ہے اسے میں نہیں جان سکتاہوں اور مجھے جو علم دیا ہے اسے تم نہیں جان سکتے حضرت موسیٰ نے کہا میں تو ضرور آپ کے ساتھ رہوں گا آپ مجھے ضرور علم سکھا دیجئے، خضر نے کہا مگر میرے ساتھ تم اس شرط پر رہ سکتے ہو کہ جو کچھ کرتا رہوں تم ہرگز مت بولنا اور نہ پوچھنا تاوقتیکہ میں ہی تم کو نہ بتا دوں آخر حضرت موسیٰ اور خضر چل دیئے ایک دریا کے کنارے کنارے جا رہے تھے کہ ایک کشتی ملی ملاحوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا اور بلا کسی اجرت کے دونوں کو کشتی میں بٹھا لیا پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ میں دریا سے پانی لیا حضرت خضر نے کہا اے موسیٰ! ﷲ تعالیٰ کے علم کے سامنے ہمارا اور تمہارا علم ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے جیسے پرندہ کے چونچ کا پانی، اس کے بعد حضرت خضر نے ایک جگہ سے کشتی کے ایک تختہ کو توڑ ڈالا حضرت موسیٰ کو بہت تعجب ہوا ور حضرت خضر سے کہنے لگے کہ ان بیچاروں نے تو ہم کو بلا اجرت کشتی میں بٹھایا ہے اور تم نے اس کو توڑ ڈالا ہے یہ تو تم نے سب کو غرق کرنے کا کام کیا ہے اچھا نہیں کیا، حضرت خضر نے کہا کہ میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ہو پھر آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک لڑکے پر آئے جو لڑکوں سے کھیل رہا تھا، حضرت خضر نے اس کو پکڑکر مار ڈالا اور اس کے سر کو تن سے جدا کردیا حضرت موسیٰ نے کہا تم نے اس کو بلا قصور کیوں مار ڈالا؟ حضرت خضر نے کہا دیکھو کہ میں نے تو تم سے کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ صبر نہیں کر سکوں گے حضرت موسیٰ نے کہا خیر اب کی مرتبہ اگر میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا پھر ایک گاؤں میں پہنچے وہاں کے لوگوں سے کھانا طلب کیا مگر گاؤں والوں نے مہمانی سے انکار کردیا اس گاؤں میں حضرت خضر نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی حضرت خضر نے اسے سیدھا کردیا، حضرت موسی علیہ السلام نے کہا آپ نے دیوار کو سیدھا کردیا حالانکہ انہوں نے ہمیں کھانا بھی نہیں کھلایا اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لیتے حضرت خضر نے اس مرتبہ حضرت موسیٰ سے فرمایا کہ بس اب تم مجھ سے علیحدہ ہو جاؤ کیونکہ تم میری باتوں پر صبر نہیں کر سکتے اور اب میں تم کو ان باتوں کی حقیقت بھی بتائے دیتا ہوں اس کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ہوتا کہ موسیٰ صبر کرتے تاکہ کچھ اور باتیں ظہور میں آتیں سعید کہتے ہیں کہ ابن عباس اس طرح پڑھتے تھے (وَکَانَ أَمَامَهُمْ مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا الخ-)



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment