Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1653,TotalNo:4189


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کا ایک باغ ہوآخر تک کی تفسیر
حدیث نمبر
4189
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَسَمِعْتُ أَخَاهُ أَبَا بَکْرِ بْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَ تَرَوْنَ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ أَيَوَدُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تَکُونَ لَهُ جَنَّةٌ قَالُوا اللَّهُ أَعْلَمُ فَغَضِبَ عُمَرُ فَقَالَ قُولُوا نَعْلَمُ أَوْ لَا نَعْلَمُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي نَفْسِي مِنْهَا شَيْئٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ عُمَرُ يَا ابْنَ أَخِي قُلْ وَلَا تَحْقِرْ نَفْسَکَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ضُرِبَتْ مَثَلًا لِعَمَلٍ قَالَ عُمَرُ أَيُّ عَمَلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَمَلٍ قَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ غَنِيٍّ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ لَهُ الشَّيْطَانَ فَعَمِلَ بِالْمَعَاصِي حَتَّی أَغْرَقَ أَعْمَالَهُ
ابراہیم، ہشام، ابن جریج، عبد ﷲ بن ابی ملیکہ، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ملیکہ کے بھائی ابوبکر بن ابی ملیکہ سے بھی سنا ہے وہ عبید بن عمیر سے روایت کرتے تھے کہ ایک روز حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے اصحاب رسول سے پوچھا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ اس آیت کا جو اوپر گزری کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا ﷲ تعالیٰ خوب واقف ہے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے ذرا سخت لہجہ میں کہا کہ صاف کہو کہ ہم کو معلوم ہے یا نہیں، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ اے امیرالمومنین میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا ہے آپ کہیں تو کہوں حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے میرے بھتیجے! ضرور کہو اور خود فرمایا کہ یہ ایک مالدار آدمی کی مثال ہے جو ﷲ کی فرمانبرداری اور نیک عمل کرتا ہے پھر شیطان کے بہکانے سے گناہوں میں مبتلا ہوکر اپنے تمام نیک اعمال برباد اور ضائع کر دیتا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment