Saturday, June 11, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1912,TotalNo:4448


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے۔
حدیث نمبر
4448
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَائِ ضَرَبَتْ الْمَلَائِکَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ کَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَی صَفْوَانٍ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِيرُ فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُ السَّمْعِ هَکَذَا بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِکَفِّهِ فَحَرَفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْکَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَی مَنْ تَحْتَهُ ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَی مَنْ تَحْتَهُ حَتَّی يُلْقِيَهَا عَلَی لِسَانِ السَّاحِرِ أَوْ الْکَاهِنِ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِکَهُ فَيَکْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ کَذْبَةٍ فَيُقَالُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا فَيُصَدَّقُ بِتِلْکَ الْکَلِمَةِ الَّتِي سَمِعَ مِنْ السَّمَائِ
سفیان، عمرو، عکرمہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب ﷲ آسمان میں اپنا کوئی حکم بھیجتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے پروں کو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں اور ﷲ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے صاف پتھر پر زنجیر ماری جاتی ہے جب فرشتوں کی گھبراہٹ دورہو جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ ﷲ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا؟ تو دوسرا عرض کرتا ہے کہ جو کچھ فرمایا حق فرمایا اس وقت شیاطین بھی زمین سے تلے اوپر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور اس حکم الٰہی کو سن کر اوپر والا نیچے والے کو بتاتا ہے اور اس طرح یہ ایک دوسرے سے باتیں اڑالیتے ہیں سفیان نے اس موقعہ پر اپنی ہتھیلی کو موڑ کر اور پھر انگلیوں کو ملاکر بتایا کہ شیاطین اس طرح ایک تو ایک ملے ہوئے ہوتے ہیں اور اوپر والا نیچے کو اور وہ اپنے نیچے والے کو اور پھر اسی طرح یہ اطلاع زمین پر ساحروں اور کاہنوں تک پہنچائی جاتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فرشتے شیاطین کو آگ کا کوڑامارتے ہیں بات پہنچانے سے قبل اور ان کے بات پہنچانے کے بعد انہیں لگ جاتی ہے اور وہ اپنے نیچے والے کو خبر کردیتا ہے پھر یہ کاہن ایک بات میں سو باتیں جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتے ہیں اور ایک سچی بات کی بدولت سب باتوں میں ان کی تصدیق کی جاتی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment