Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1724,TotalNo:4260


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جہنوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانا اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کی۔
حدیث نمبر
4260
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمَانُ أَبُو رَجَائٍ مَوْلَی أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَذَکَرُوا وَذَکَرُوا فَقَالُوا وَقَالُوا قَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَائُ فَالْتَفَتَ إِلَی أَبِي قِلَابَةَ وَهْوَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَقَالَ مَا تَقُولُ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ أَوْ قَالَ مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ قُلْتُ مَا عَلِمْتُ نَفْسًا حَلَّ قَتْلُهَا فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا رَجُلٌ زَنَی بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ بِکَذَا وَکَذَا قُلْتُ إِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسٌ قَالَ قَدِمَ قَوْمٌ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمُوهُ فَقَالُوا قَدْ اسْتَوْخَمْنَا هَذِهِ الْأَرْضَ فَقَالَ هَذِهِ نَعَمٌ لَنَا تَخْرُجُ فَاخْرُجُوا فِيهَا فَاشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَخَرَجُوا فِيهَا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا وَاسْتَصَحُّوا وَمَالُوا عَلَی الرَّاعِي فَقَتَلُوهُ وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ فَمَا يُسْتَبْطَأُ مِنْ هَؤُلَائِ قَتَلُوا النَّفْسَ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَخَوَّفُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ تَتَّهِمُنِي قَالَ حَدَّثَنَا بِهَذَا أَنَسٌ قَالَ وَقَالَ يَا أَهْلَ کَذَا إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا أُبْقِيَ هَذَا فِيکُمْ أَوْ مِثْلُ هَذَا
علی بن عبدﷲ، محمد بن عبد ﷲ الانصاری، ابن عون، سلیمان، ابورجاء (ابن قلابہ کا آزاد کردہ غلام) ، ابوقلابہ، حضرت عبد ﷲ بن زید سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ کچھ لوگوں نے قسامت کا ذکرچھیڑ دیا اور کہا کہ قسامت میں قصاص لازم ہوگا کیونکہ خلفاء نے بھی قصاص کا حکم دیا، عمر بن عبدالعزیز نے گھوم کردیکھا تو ابوقلابہ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے عمر بن عبدالعزیز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اے عبد ﷲ بن زید! اس معاملہ میں تم کیا کہتے ہو انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کوئی آدمی مسلمان ہوتے ہوئے سوائے ان تین شخصوں کے واجب القتل نہیں ہے۔ اول جو محصن ہوکر زنا کرے، دوم جس نے ناحق کسی کو مارڈالا ہو، سوم وہ جس نے ﷲ و رسول کے ساتھ کفر کیا ہو، یہ بات سن کر عبنسہ بن سعید کہنے لگے ہم نے تو انس (بن مالک) کو کہتے سنا ہے کہ قصاص ہونا چاہئے پھر یہ حدیث بیان فرمائی کہ عرینہ کے کچھ آدمی حضور اکرم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی اور بدہضمی ہوگئی ہے آپ نے فرمایا اچھا! ہمارے اونٹ چرانے جنگل کو جارہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ چلے جاؤاور ان کا دودھ وغیرہ پیو وہ گئے اور تندرست ہوگئے پھر انہوں نے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر بھاگ گئے کیا، ایسے لوگوں کے قتل میں کوئی تامل ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو مار دیا ﷲ و رسول سے لڑے اور نافرمانی کی اور اس طرح انہوں نے رسول پاک کو خوفزدہ کیا یہ سن کر عنبسہ نے سبحان ﷲ کہا، میں نے کہا کیا تم مجھ کو جھٹلاتے ہو؟ انہوں نے کہا بلکہ حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث مجھ سے بھی بیان کی ہے مجھے تو تعجب ہوا کہ آپ کو حدیث (خوب یاد رہتی ہے) اس کے بعد عنبسہ نے کہا، اے اہل شام! تم ہمیشہ خوش رہو گے جب تک تم میں ابوقلابہ جیسے عالم موجود رہیں گے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment