کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ تبت یدا ابی لہب
حدیث نمبر
4619
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هَذَا فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْکَ کَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَکُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَکَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ وَقَدْ تَبَّ هَکَذَا قَرَأَهَا الْأَعْمَشُ يَوْمَئِذٍ
یوسف بن موسیٰ، ابواسامہ، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب آیت وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے) اور ان میں سے خاص لوگوں کو ڈرایئے نازل ہوئی تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور کوہ صفا پر چڑھ کر یا صباحاہ! کہہ کر پکارنے لگے لوگوں نے کہا یہ کون ہے؟ اور آپ کے پاس جمع ہو گئے آپ نے فرمایا بتلاؤ! اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کے دامن سے نکلنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں تم سے جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں ابولہب نے کہا تبالک (تیری ہلاکت ہو) کیا تو نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا پھر وہ اٹھ کر چل دیا تو آیت (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ) نازل ہوئی اعمش نے اس دن اسی طرح پڑھا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment