کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
سورۃ فاتحہ کی تفسیر اور فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر
4653
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کُنَّا فِي مَسِيرٍ لَنَا فَنَزَلْنَا فَجَائَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ وَإِنَّ نَفَرَنَا غَيْبٌ فَهَلْ مِنْکُمْ رَاقٍ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مَا کُنَّا نَأْبُنُهُ بِرُقْيَةٍ فَرَقَاهُ فَبَرَأَ فَأَمَرَ لَهُ بِثَلَاثِينَ شَاةً وَسَقَانَا لَبَنًا فَلَمَّا رَجَعَ قُلْنَا لَهُ أَکُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً أَوْ کُنْتَ تَرْقِي قَالَ لَا مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْکِتَابِ قُلْنَا لَا تُحْدِثُوا شَيْئًا حَتَّی نَأْتِيَ أَوْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَکَرْنَاهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمَا کَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِهَذَا
محمد بن مثنی، وہب، ہشام، محمد، معبد، ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سفر میں ایک مقام پر تھے کہ ایک لونڈی نے آکر کہا کہ اس قوم کے سردارکو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہماری آبادی کے لوگ موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی منتر پڑھنے والا ہے (چناچہ) ان کے ہمراہ ہم میں سے ایک شخص ہوگیا، جس کوہم جانتے تھے کہ وہ منتر نہیں پڑھ سکتا، اس نے جاکر اس پر منتر پڑھا اور وہ شخص اچھا ہوگیا، اس نے ہمیں تیس بکریاں دیں اور ہمیں دودھ پلایا، جب وہ لوٹا تو ہم نے اس سے پوچھا کیا تو منتر اچھی طرح جانتا ہے یا تو منتر کرتا ہے، راوی کو شک ہے اس نے جواب دیا کہ میں نے کبھی منتر نہیں پڑھا میں نے صرف فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کی پھر ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے فرمایا تمہیں کس چیز سے شبہ ہوا کہ یہ منتر ہے اس مال کو تم بانٹو اور مجھے بھی حصہ دو، معمر کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالوارث نے ان سے ہشام نے ان سے محمد بن سیرین نے حدیث بیان کی وہ ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment