کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے جبر کی بنا پر کہے کہ یہ میری بہن ہے تو اس پر کچھ بھی نہیں۔
حدیث نمبر
4902
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَی رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَی يَعْنِي نَفْسَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّی لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَی فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّی لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ لَهُ ذَلِکَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّی لَهُ الرَّابِعَةَ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ بِکَ جُنُونٌ قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ وَکَانَ قَدْ أُحْصِنَ وَعَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ کُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّی بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّی أَدْرَکْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ حَتَّی مَاتَ
ابوالیمان، شعیب، زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی اسلم کا ایک شخص آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے عرض کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپ نے اپنا منہ پھیر لیا تو وہ اس طرف آپ کے سامنے آگیا، جس کی طرف آپ نے منہ کیا تھا، اور کہا یا رسول ﷲ! اس کم بخت نے زنا کیا ہے، آپ نے اس وقت بھی اپنا منہ پھیر لیا تو وہ اس طرف آپ کے سامنے آگیا، جس کی طرف آپ نے منہ کیا تھا، اور کہا یا رسول ﷲ! اس کم بخت نے زنا کیا ہے، آپ نے اپنا اس وقت بھی منہ پھیر لیا تو وہ اس طرف آپ کے سامنے آگیا، جس کی طرف آپ نے منہ کیا تھا، اور کہا یا رسول ﷲ! اس کم بخت نے زنا کیا ہے، چوتھی بار آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور جب اپنے اوپر چار بار گواہی دے دی، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا کہ تو دیوانہ ہوگیا ہے، اس نے جواب دیا نہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ اس کو لے جاؤ اور سنگسار کردو، وہ شادی شدہ تھا، اور زہری سے منقول ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ایسے دوآدمیوں نے بیان کیا کہ میں بھی سنگسار کرنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو مدینہ کی عیدگاہ میں سنگسار کیا جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگ نکلا، ہم نے اس کو حرہ میں پکڑ لیا اور اس کو سنگسار کیا، یہاں تک کہ مرگیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment