کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
بکریوں کا تقسیم کرنا اور اس میں انصاف کرنا۔
حدیث نمبر
4763
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ امْرَأَةً جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ لَکَ نَفْسِي فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتْ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَکُنْ لَکَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا فَقَالَ هَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَيْئٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اذْهَبْ إِلَی أَهْلِکَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَالَ انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَکِنْ هَذَا إِزَارِي قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَائٌ فَلَهَا نِصْفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِکَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْئٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْکَ مِنْهُ شَيْئٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّی طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَائَ قَالَ مَاذَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ مَعِي سُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا عَدَّدَهَا قَالَ أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَهَا بِمَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ
قتیبہ، یعقوب، ابوحازم، سہل بن سعد کہتے کہ ایک عورت نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! میں آپ کو اپنا نفس ہبہ کرنے آئی ہوں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور اسے اوپر سےنیچے غور کر کے دیکھا، پھر اپنا سر نیچا کر لیا، عورت نے جب دیکھا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے کچھ حکم نہ فرمایا تو وہ بیٹھ گئی ایک صحابی نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول ﷲ! اگر اس عورت کی آپ کوحاجت نہ ہو تو مجھ سے اس کو بیاہ دیجئے، آپ صلی ﷲ علہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے پاس کچھ ہے، کہا یا رسول ﷲ! ﷲ کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ہے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر جا کر دیکھ تو سہی، شاید کچھ مل جائے، وہ گیا پھر واپس آکر کہنے لگا بخدا یا رسول ﷲ مجھے کچھ نہیں ملا ہے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ تو سہی، اگرچہ لوہے کہ انگوٹھی ہی ہو وہ ہی لے آؤ وہ جا کر پھر لوٹ آیا اور کہا کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں مل سکی، ہاں یہ میرا تہہ بند ہے، آدھا اس کودے دیجئے، سہل فرماتے ہیں کہ اس کے پاس دوسری چادر بھی نہ تھی، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے تہہ بند کو وہ کیا کرے گی، اگر تو باندھ لے وہ ننگی رہے گی، اور اگر وہ اوڑھ لے تو تو ننگارہ جائے گا، چناچہ مجبورا وہ بیچارہ بیٹھ گیا، پھر کچھ دیر بیٹھ کر وہ جانے لگا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا تجھے قرآن شریف کی کون کون سی سورتیں یاد ہیں، اس نے چند سورتیں شمار کر کے کہا، کہ مجھے یہ سورتیں یاد ہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو ان کا حافظ ہے؟ اس نے کہا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جا میں نے تجھے قرآن یاد ہونے کے سبب سے اس عورت کا مالک بنا دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment