کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
قرآن شریف کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4688
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَکَانَ مِمَّا يُحَرِّکُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَکَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ فَإِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِکَ قَالَ وَکَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ کَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ
قتیبہ بن سعید، جریر، موسی ابن ابی عائشہ، سعید بن جبیرسے روایت کرتے ہیں کہ ﷲ تعالی کے قول لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ (زبان کوجلدی نہ چلایا کرو) کی تفسیر میں یوں روایت ہے کہ جبریل جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس وحی لاتے تو آپ اپنی زبان اور ہونٹ جلد ہلاتے تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم پر یہ بار گذرتا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کاعلم ہوتا، اس وقت ﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ ) یعنی جلدی کے مارے زبان مت ہلاؤ، تیرے سینہ میں محفوظ رکھنا اور پڑھنا ہماری ذمہ داری ہے، ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے لفظ علینا جمعہ کی تفسیر جمعہ فی صدرک سے کی ہے یعنی تیرے سینہ میں اس کا محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، (فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ) یعنی جب ہم اس کوپڑھائی تو کان لگا کر سن، (ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ) یعنی پھر اس کا تیری زبان سے بیان کرانا ہمارے ذمہ ہے، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں اس کے بعد جب جبریل وحی لاتے تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سر نیچا کرکے سنتے اور جب جبریل چلے جاتے تو آپ ﷲ کے وعدے کے مطابق اسے پڑھ لیتے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment