کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
لعان کا بیان اور جو شخص لعان کے بعد طلاق دے اس کا بیان
حدیث نمبر
4934
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَائَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّی کَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَهْلِهِ جَائَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ کَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
اسماعیل، مالک، ابن شہاب، سہل بن سعد ساعدی کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا اے عاصم! بتاؤ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو تم اس کو قتل کردیتے ہو پھر وہ بے چارہ کیا کرے؟ اے عاصم! اس کے متعلق تم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھو، عاصم نے اس کے متعلق نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ان مسئلوں کو جو بلاضرورت پوچھے جائیں، ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا، اور عیب کی بات سمجھی، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے جوبات عاصم نے سنی وہ ان کو ناگوار گذری، جب عاصم اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو ان کے پاس عویمر آئے اور پوچھا کہ اے عاصم! رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے، عاصم نے کہا کہ تم کوئی اچھی چیز نہیں لائے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے میرے سوال کو ناپسند سمجھا ہے، عویمر نے کہا کہ بخدا میں باز نہیں آوں گا جب تک کہ میں اس کے متعلق آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، عویمر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگوں کے درمیان میں آئے اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! بتلائیے کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو آپ اس کو قتل کردیں گے، تو پھر وہ (بے چارہ) کیا کرے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل ہوچکی ہے، جا اپنی بیوی کو لے آ، سہل کا بیان ہے کہ دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس تھا، جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمرنے عرض کیا یا رسول ﷲ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں گا، چناچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے انہوں نے تین طلاقیں دے دیں، ابن شہاب نے کہا کہ لعان کرنے والوں کے لئے یہی سنت ہوگی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment