کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
دعوت میں کوئی بری بات دیکھے تولوٹ آنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4817
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْکَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ قَالَتْ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لَکَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِکَةُ
اسماعیل، مالک، نافع، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تکیے خریدے تھے، جن میں تصویریں تھیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم ان تصویروں کو دیکھ کر دروازہ پر رک گئے اور اندر نہ آئے، میں آپ کے چہرے پر کراہت کو تاڑ گئی، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں ﷲ اور رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کی طرف توبہ کرتی ہوں، (آپ فرمائیں) مجھ سے جو گناہ سرزد ہوا ہو، تو آپ نے فرمایا تکیے کیسے ہیں؟ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا میں نے یہ تکیے اس لئے خریدے ہیں کہ آپ ان پر بیٹھا کیجئے اور ٹیک لگایا کیجئے، آپ نے فرمایا تصویر والوں کو قیامت کے دن عذاب ہوگا اور سرزنش کے طورپرکہا جائے گا، تم نےجو کچھ یہ کیا ہے اسے زندہ کرو، اس کے بعد نبی صلی ﷲ علیہ ولم نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں، وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment