کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے۔
حدیث نمبر
4905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ الْمُخَرِّمِيُّ حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنْقِمُ عَلَی ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الْکُفْرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ فَقَالَتْ نَعَمْ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا
محمد بن عبد ﷲ بن مبارک مخرمی، قرادابونوح، جریر بن حازم، ایوب، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ میں ثابت بن قیس کے ساتھ رہنے سے اس کی دینداری یاعادت کی وجہ سے انکار نہیں کرتی بلکہ اس وجہ سے کہ کفران نعمت کامجھے خطرہ ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اسکا باغ واپس کردے گی، اس نے کہا ہاں! اس نے وہ باغ واپس کردیا، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو جدا کرنے کا حکم دیا تو ثابت بن قیس نے اس کو جدا کردیا (طلاق دے دی) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment