Friday, July 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:6,TotalNo:4657


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
 سورۃ قل ھواللہ احد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر
4657
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ وَکَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَزَادَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَخِي قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ مِنْ السَّحَرِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَی الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، عبدالرحمن بن عبد ﷲ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ اپنے والد سے، وہ ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی کو سورہ اخلاص بار بار پڑھتے ہوئے سنا، صبح کو اس نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آکر بیان کیا اور وہ سورہ اخلاص کوچھوٹی ہونے کی وجہ سے کمتر جانتا تھا، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کہ قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ سورۃ اخلاص تہائی قرآن کے برابرہے، ابومعمر نے مزید بیان کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے ان سے مالک بن انس نے ان سے عبدالرحمن بن عبد ﷲ بن عبد الرحمن بن ابوصعصعہ نے ان سے ان کے والد نے ان سے ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ نے روایت کیا کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان نے خبردی کہ ایک شخص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں پچھلی رات اٹھ کر سورۃ اخلاص پڑھنے لگا اور اس کے علاوہ کچھ نہ پڑھا، جب صبح ہوئی تو اس شخص نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آکر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment