کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
فاطمہ بنت قیس کا واقعہ۔
حدیث نمبر
4950
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَی فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَکَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ قَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِکْرِ هَذَا الْحَدِيثِ
عمرو بن عباس، ابن مہدی، سفیان عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ فلاں یعنی حکم کی پوتی کو اس کے شوہر نے طلاق بتہ دے دی ہے اور وہ گھر سے نکل گئی ہے، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہا کہ اس نے برا کیا، پھر عروہ نے کہا کیا آپ نے نہیں سنا کہ فاطمہ کیا کہتی ہے اور ابن ابی الزناد نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد سے اس اضافہ کے ساتھ روایت کیا کہ عائشہ رضی ﷲ عنہا نے اس کو بہت زیادہ برا سمجھا اور فرمایا کہ فاطمہ ایک ڈر والے مکان میں تھی اور اس کے اطراف میں ہمیشہ ڈر لگا رہتا تھا، اسی وجہ سے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment