کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے یہ کہنا کہ دیکھ لو تمہیں میری کونسی بیوی پسند ہے۔تاکہ میں اسے چھوڑ دوں
حدیث نمبر
4715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ وَعِنْدَ الْأَنْصَارِيِّ امْرَأَتَانِ فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ بَارَکَ اللَّهُ لَکَ فِي أَهْلِکَ وَمَالِکَ دُلُّونِي عَلَی السُّوقِ فَأَتَی السُّوقَ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَقَالَ تَزَوَّجْتُ أَنْصَارِيَّةً قَالَ فَمَا سُقْتَ إِلَيْهَا قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
محمد بن کثیر، سفیان، حمید طویل، انس بن مالک کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف مدینہ تشریف لائے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے عبدالرحمن اور سعد بن ربیع انصاری میں بھائی چارہ کرا دیا، سعد انصاری کی دوبیویاں تھیں، سعد نے عبدالرحمن سے کہا کہ میری بیویاں اور مال سب میں سے آدھا آپ لے لیں، انہوں نے جواب دیا کہ ﷲ تم کو تمہارا مال زیادہ کرے اور بیویاں مبارک ہوں، مجھے بازار بتا دو، چناچہ بازار میں جا کر پنیر اور روغن کی تجارت سے نفع حاصل کیا، چند دنوں کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کے کپڑوں پر زردی دیکھ کر کرفرمایا، اے عبدالرحمن! یہ کیا بات ہے، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کرلیا ہے، آپ نے فرمایا کتنے مہرپر، عرض کیا (تقریبا) چارتولہ سونا، اس پر آپ نے فرمایا ولیمہ بھی کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment