کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
ولیمہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4801
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَکَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَی خِدْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً فَکُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ وَکَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنْ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُکْثَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِکَيْ يَخْرُجُوا فَمَشَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْتُ حَتَّی جَائَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ عَلَی زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّی إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب کہتے ہیں کہ انس بن مالک نے مجھے اطلاع دی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے اس وقت میری عمر دس سال کی تھی، میری والدہ مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے ہمیشہ دیتی تھی، میں نے دس سال آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت کی، اور جب آپ کی وفات ہوئی، تو میں بیس برس کا تھا، حجاب کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی، اس سے میں خوب واقف ہوں، اور اول شان نزول آیت حجاب شب زفاف زینب بنت جحش ہے، جس صبح کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی زینب بنت جحش دلہن بنیں، تو آپ نے اپنی قوم کو کھانا کھلایا، کھانے کے بعد اکثر تو ان میں سے چلے گئے، مگر ان میں سے کچھ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے اور انہوں نے بڑی دیر لگائی، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی آپ کے ہمراہ اس خیال سے نکل گیا کہ شاید لوگ بھی چلے جائیں، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم اور میں ٹہلتے اور جب حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کے حجرے کے پاس آئے، تو خیال کیا، وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، آپ پھر واپس آئے، اور آپ کے ہمراہ میں بھی آیا، جب زینب رضی ﷲ عنہا کے پاس گئے تو دیکھاوہ لوگ بیٹھے ہیں، گئے نہیں، آپ پھر واپس آئے، اور میں بھی آیا، جب ہم حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ کے پاس پہنچے اور گمان کیا کہ وہ چلے گئے ہوں گے، تو آپ پھر تشریف لائے، آپ کے ساتھ میں بھی تھا، اب معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ ڈال دیا (تب ہی) پردہ کی آیت نازل ہوئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment