کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
مسجد میں لعان کرنے کا بیان
حدیث نمبر
4935
حَدَّثَنَا يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الْمُلَاعَنَةِ وَعَنْ السُّنَّةِ فِيهَا عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَکَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَضَی اللَّهُ فِيکَ وَفِي امْرَأَتِکَ قَالَ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنْ التَّلَاعُنِ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاکَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ کُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَکَانَتْ حَامِلًا وَکَانَ ابْنُهَا يُدْعَی لِأُمِّهِ قَالَ ثُمَّ جَرَتْ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ جَائَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا کَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَکَذَبَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَائَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا فَجَائَتْ بِهِ عَلَی الْمَکْرُوهِ مِنْ ذَلِکَ
یحییٰ، عبدالرزاق، ابن جریج ابن شہاب نے مجھ سے لعان اور اس کے مسنون طریقے کے متعلق بنی ساعدہ کے بھائی سہل بن سعد کی حدیث بیان کی کہ ایک انصاری شخص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! اگرکوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاتا ہے اور وہ اس کو قتل کردیتا ہے تو آپ اس کو قتل کردیتے ہیں، بتلائیے آخروہ (قتل نہ کرے) تو کیا کرے، ﷲ تعالی نے اس کی شان میں وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ﷲ نے تیرے اور تیری بیوی کے متعلق حکم صادر فرما دیا ہے ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا، جب دونوں فارغ ہوئے تو اس مرد نے کہا کہ اگر میں اسکو اپنے پاس رکھتا ہوں تو لوگ مجھے جھوٹا سمجھیں گے چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی- جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے اور اسکو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے جدا کردیا تو آپ نے فرمایا ہر لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کی یہی صورت ہے- ابن جریج نے ابن شہاب کا قول نقل کیا کہ ان دونوں سے یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ لعان کرنے والوں میں تفریق کرادی جائے- وہ عورت حاملہ تھی اور وہ بچہ اپنی ماں کے نام سے پکاراجاتا تھا، ابن شہاب کا بیان ہے کہ میراث میں یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ وہ عورت اس بچے کی اور بچہ اپنی ماں کا وارث ہوگا جیسا کہ ﷲ تعالی نے اس کے لئے مقرر کیا ہے- ابن جریج نے بواسطہ ابن شہاب سہل بن سعد ساعدی سے اس حدیث میں روایت کیا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرعورت سرخ رنگ کا ٹھگنا بچہ دے تو میں سمجھوں گا کہ وہ عورت سچی ہے اور اگربڑی بڑی کالی آنکھوں والا اور بڑے بڑے چوتڑوں والاپیدا ہواتو میں سمجھوں گا کہ مرد سچا ہے، بعد ازاں اس عورت نے اسی دوسری صورت کا بچہ جنا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment