کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو طلاق دے اور کیا یہ ضروری ہے کہ مرد اپنی بیوی کی طرف طلاق دیتے وقت متوجہ ہو۔
حدیث نمبر
4888
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَسِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْطَلَقْنَا إِلَی حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسُوا هَا هُنَا وَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَبِي نَفْسَکِ لِي قَالَتْ وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِکَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ قَالَ فَأَهْوَی بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْکُنَ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ فَقَالَ قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا أُسَيْدٍ اکْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّيْسَابُورِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي أُسَيْدٍ قَالَا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيلَ فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَکَأَنَّهَا کَرِهَتْ ذَلِکَ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُجَهِّزَهَا وَيَکْسُوَهَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ
ابونعیم، عبدالرحمن بن غسیل، حمزہ بن ابی اسید، ابواسید کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نکل کر ایک باغ پر پہنچے، جس کو شوط کہا جاتا تھا، جب ہم اس کی دو دیواروں کے درمیان پہنچے تو ہم وہاں بیٹھ گئے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں بیٹھے رہو، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، وہاں جونیہ لائی گئی اور امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجور کے گھر میں اتاری گئی اور اس کے ساتھ ایک نگرانی کرنے والی دایہ تھی، جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اس کے قریب پہنچے تو فرمایا تو اپنے آپ کو میرے حوالہ کردے، اس نے کہا کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو کسی بازاری کے حوالہ کرسکتی ہے، آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ اس کے سر پر رکھ کر اسے تسکین دیں، اس نے کہا میں تجھ سے ﷲ کی پناہ چاہتی ہوں، آپ نے فرمایا تو نے ایسی ذات کی پناہ مانگی ہے جس کی پناہ مانگی جاتی ہے، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابواسید! اس کو دورازقی کپڑے پہنا کر اس کے گھر والوں کے پاس پہنچادے، حسین بن ولید، نیشاپوری نے عبدالرحمن، عباس بن سہل وہ اپنے والد اور ابواسید سے روایت کرتے ہیں، ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، اس نے ناپسند کیا تو آپ نے ابواسید کو حکم دیا کہ اسے سامان مہیا کردے اور دورازقی کپڑے پہنادے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment