کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
لعان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4926
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ کَالرَّامِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ
قتیبہ، لیث، یحییٰ بن سعید انصاری، انس بن مالک رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں انصار کے گھروں میں سب سے اچھا گھر نہ بتا دوں؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول ﷲ! ، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنونجار کا گھر، پھروہ لوگ جو ان سے قریب ہیں، یعنی بنو عبدالاشہل، پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں، یعنی بنوحارث، پھروہ لوگ جو ان سے قریب ہیں، یعنی بنو خزرج، پھروہ لوگ جو ان سے قریب ہیں، یعنی بنوساعدہ، پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور اپنی انگلیوں کو سمیٹ لیا، پھرا پنے ہاتھ سے تیر پھینکنے والے کی طرح ان کو پھیلا دیا، پھر فرمایا کہ انصار کے تمام گھروں میں خیر ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment