صحیح بخاری
کتاب
ذبیحوں اور شکار کا بیان
باب
اگر ایک جماعت کو مالک غنیمت ہاتھ لگے۔ الخ
حدیث نمبر
5156
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّنَا نَلْقَی الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًی فَقَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ فَکُلُوهُ مَا لَمْ يَکُنْ سِنٌّ وَلَا ظُفُرٌ وَسَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ ذَلِکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَی الْحَبَشَةِ وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَأَصَابُوا مِنْ الْغَنَائِمِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَأَمَرَ بِهَا فَأُکْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ وَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ ثُمَّ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْ أَوَائِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَکُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ فَقَالَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا مِثْلَ هَذَا
مسدد، ابوالاحوص، سعیدبن مسروق، عبایہ بن رفاعہ، رفاعہ، رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں نے نبی پاک صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم کل دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہے، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایاجس چیز سے خون بہہ جائے اور اس پر ﷲ تعالی کا نام لیا گیا ہوتو (اس سے ذبح کیا ہوا) کھاؤ بشرطیکہ دانت اور ناخن نہ ہو، اور میں تم سے اسکی وجہ بیان کئے دیتا ہوں، کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور کچھ لوگ جلدی کرکے آگے بڑھے اور ان لوگوں نے ہانڈیاں چڑھا دی تھیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا تو وہ ہانڈیاں الٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان (مال غنیمت) تقسیم کیا اور ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے رکھا، پھر انکی جماعت میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا اور ان کے ساتھ کوئی سوار نہیں تھا، ایک شخص نے تیر پھینکا تو ﷲ نے اس کو روک دیا، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جانوربھی جنگلی جانوروں کی طرح ہوجاتے ہیں، چناچہ (اگر) ان جانوروں میں سے کوئی ایسا کرے تو اسی طرح کرو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment