Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:770,TotalNo:5421

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
سبز کپڑوں کا بیان
حدیث نمبر
5421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِکْرِمَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيُّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَکَتْ إِلَيْهَا وَأَرَتْهَا خُضْرَةً بِجِلْدِهَا فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنِّسَائُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا يَلْقَی الْمُؤْمِنَاتُ لَجِلْدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ ثَوْبِهَا قَالَ وَسَمِعَ أَنَّهَا قَدْ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ وَمَعَهُ ابْنَانِ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي إِلَيْهِ مِنْ ذَنْبٍ إِلَّا أَنَّ مَا مَعَهُ لَيْسَ بِأَغْنَی عَنِّي مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهَا فَقَالَ کَذَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الْأَدِيمِ وَلَکِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ کَانَ ذَلِکِ لَمْ تَحِلِّي لَهُ أَوْ لَمْ تَصْلُحِي لَهُ حَتَّی يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِکِ قَالَ وَأَبْصَرَ مَعَهُ ابْنَيْنِ لَهُ فَقَالَ بَنُوکَ هَؤُلَائِ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَذَا الَّذِي تَزْعُمِينَ مَا تَزْعُمِينَ فَوَاللَّهِ لَهُمْ أَشْبَهُ بِهِ مِنْ الْغُرَابِ بِالْغُرَابِ
محمد بن بشار، عبدالوہاب، ایوب، عکرمہ کہتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھرا س سے عبدالرحمن قرظی نے نکاح کیا، حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ سبز ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی، اس نے حضرت عائشہ سے اپنے شوہر کی شکایت کی اور اپنے جسم کی کھال دکھائی، جس پر سبزی تھی، جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے، عورتیں چونکہ ایک دوسرے کی مدد کرتی تھیں، اس لئے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے عرض کیا میں نے کسی مومن عورت کے ساتھ ایسا برا سلوک ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، اس کی کھال اس کے کپڑے سے زیادہ سبز ہوگئی ہے، راوی کا بیان ہے کہ عبدالرحمن نے سنا کہ وہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں گئی ہے، چناچہ وہ اپنے ساتھ دو بیٹوں کو دوسری بیوی سے تھے، لے کر آئے، اس عورت نے بیان کیا کہ و ﷲ! اس کا کوئی قصور نہیں، مگریہ کہ اس کے پاس جو چیز (عضو خاص) ہے اس سے میری تشفی نہیں ہوتی اور اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑ کر دکھایا، عبدالرحمن نے کہا یا رسول ﷲ! خدا کی قسم یہ جھوٹی ہے، میں تو اس کی تسلی کر دیتا ہوں، لیکن یہ نافرمان ہے، رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہ بات ہے تو تو اس کے لئے حلال نہیں یا یہ فرمایا کہ تو اس سے نکاح کی صلاحیت نہیں رکھتی جب تک وہ تیری لذت نہ چکھ لے (صحبت نہ کرلے) اور عبدالرحمن کے دونوں بیٹوں کو دیکھ کر فرمایا کیا یہ تمہارے بیٹے ہیں، انہوں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے فرمایا یہی ہے جس کی وجہ سے یہ عورت اس قسم کی باتیں کرتی ہے، خدا کی قسم وہ لڑکے عبدالرحمن سے اس سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں کہ جس طرح کوے کو کوے سے مشابہت ہوتی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment