صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر لباس اور فرش پر اکتفاء کرتے تھے
حدیث نمبر
5440
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلًا فَدَخَلَ الْأَرَاکَ فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ فَقَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ثُمَّ قَالَ کُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ النِّسَائَ شَيْئًا فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ وَذَکَرَهُنَّ اللَّهُ رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِکَ عَلَيْنَا حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَيْئٍ مِنْ أُمُورِنَا وَکَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي کَلَامٌ فَأَغْلَظَتْ لِي فَقُلْتُ لَهَا وَإِنَّکِ لَهُنَاکِ قَالَتْ تَقُولُ هَذَا لِي وَابْنَتُکَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا إِنِّي أُحَذِّرُکِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ لَهَا فَقَالَتْ أَعْجَبُ مِنْکَ يَا عُمَرُ قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ فَرَدَّدَتْ وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَکُونُ وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَکُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اسْتَقَامَ لَهُ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا مَلِکُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ کُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِالْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ قُلْتُ لَهُ وَمَا هُوَ أَجَائَ الْغَسَّانِيُّ قَالَ أَعْظَمُ مِنْ ذَاکَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُکَائُ مِنْ حُجَرِهِنَّ کُلِّهَا وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ وَعَلَی بَابِ الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِي فَأَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ فَذَکَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَيَّ أُمُّ سَلَمَةَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، یحییٰ بن سعید، عبید بن حنین، ابن عباس رضی ﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں سال بھر تک اس انتظار میں رہا کہ (موقع پا کر) حضرت عمررضی ﷲ عنہ سے ان دو عورتوں کے متعلق پوچھوں جنہوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا مگر خوف کی وجہ سے میں پوچھ نہ سکا- ایک دن وہ ایک منزل پر اترے اور اراک لے پاس گئے جب وہ واپس ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ وہ عائشہ رضی ﷲ عنہا اور حفصہ رضی ﷲ عنہا تھیں، پھر کہا ہم جاہلیت کے زمانہ میں عورتوں کو کچھ بھی شمار نہیں کرتے تھے، جب اسلام آیا اور ﷲ تعالی نے ان کا ذکر کیا تو ہم نے خیال کیا کہ ہم پر ان کے کچھ حقوق ہیں، مگر یہ کہ اپنے امور میں ان کو دخل کی اجازت نہیں دینگے- میرے اور میری بیوی کے درمیان گفتگو ہورہی تھی تو اس نے سختی سے جواب دیا، میں نے کہا تو اور تیرا یہ درجہ (کہ اب اس طرح بات کرنے لگی) اس نے کہاتم مجھ سے تو یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہے، میں حفصہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں تجھے ﷲ اور رسول کی نافرمانی سے ڈراتاہوں، اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی اذیت کے معاملہ میں پہلے حفصہ کے پاس گیا، پھر ام سلمہ کے پاس گیا اور ان سے بھی یہی کہا، تو انہوں نے جواب دیا اے عمر! تعجب ہے کہ تم ہمارے تمام امور میں دخل دیتے تھے یہاں تک کہ اب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور ان کی بیویوں کے معاملہ میں بھی دخل دینے لگے، یہ کہہ کر انہوں نے تردید کردی، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ ایک انصاری جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس سے غیر حاضر رہتا اور میں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس موجود ہوتا تو جو کچھ گذرتا میں اس (انصاری) سے بیان کرتا، اور جب میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس سے غیر حاضر رہتا اور وہ موجود ہوتا تو وہ مجھ سے آکر بیان کردیتا جو کچھ ہوتا، اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ارد گرد کے لوگ مطیع ہوچکے تھے، صرف شام میں غسان کا بادشاہ باقی رہ گیا اور ہمیں اندیشہ تھا کہ وہ ہم پر حملہ کرے گا، میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے، کیا غسانی آگئے، اس نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات ہے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی، چناچہ میں گیا تو دیکھا کہ ان سب کے حجروں سے رونے کی آواز آرہی ہے، اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اپنے ایک بالاخانہ میں تشریف فرما ہیں، اس بالاخانے کے دروازے پر ایک غلام تھا، میں اس کے پاس گیا اور کہا کہ میرے لئے داخلہ کی اجازت مانگ (جب اجازت ملی) تو میں اندرگیا، دیکھا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ایک چٹائی پربیٹھے پر ہیں، جس کے نشان آپ کے پہلو پر پڑگئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے کھال کا تکیہ تھا جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور چند کھالیں لٹکی ہوئی تھی اور رنگ والی گھاس تھی، میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے جو کچھ کہا تھا اور ام سلیم سے جو کچھ کہا تھا اور ام سلمہ نے کچھ میری باتوں کا جواب دیا وہ میں نے آپ سے بیان کیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہنس دیئے، آپ انتیس رات وہیں ٹھہرے پھراتر آئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment