کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اللہ تعالی کے احکام میں غضب اور سختی جائز ہے۔
حدیث نمبر
5697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا وَقَالَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ
محمد، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید (منبعث کے آزاد کردہ غلام) زید بن خالد جہنی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو ایک سال تک مشتہر کرو، پھر اس کے سربندھن کو پہچان رکھ، پھراس کو خرچ کر ڈال، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو دے دو، اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ! گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے، آپ نے فرمایا تو اس کو لے لے، اس لئے کہ وہ تیرا ہے یا تیرے بھائی کا یا بھڑیئے کا ہے، اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ! کھوئے ہوئے اونٹ کا کیا حکم ہے؟ راوی کا بیان ہے کہ رسول ﷲ بہت غصہ ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار یا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا کہ تجھے اس سے کیا سروکار! جب کہ اس کا کھانا اور پانی اس کے ساتھ ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالیتا ہے، اور مکی نے کہا کہ ہم سے عبد ﷲ بن سعید نے بیان کیا کہ محمدبن زیاد بواسطہ محمد بن جعفر، عبد ﷲ بن سعید، سالم ابوالنضر (عمر بن عبید ﷲ کے آزاد کردہ غلام) بسر بن سعید، زیدبن ثابت کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ایک حجرہ کھجور کی شاخ یا بوریئے سے بنالیا تھا، (ایک بار) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نکلے اور جا کر اس میں نماز پڑھنے لگے، تو لوگ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے، پھر ایک رات (دوسرے) لوگ تو آگئے، لیکن آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آنے میں دیر کردی، اور آپ باہر تشریف نہیں لائے، تو لوگوں نے اپنی آواز بلند کی اور دروازے پر کنکریاں پھینکیں، غصے کی حالت میں آپ باہر تشریف لائے اور ان لوگوں سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے برابر اس طرح کرتے رہنے کی وجہ سے میں نے خیال کیا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردیا جائے، اس لئے تم اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، اس لئے کہ فرض کے سوا دوسری نمازیں وہ بہتر ہیں جو گھر میں پڑھی جائیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment