کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان۔
حدیث نمبر
5670
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا کَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ لِهُدْبَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ جِلْبَابِهَا قَالَ وَأَبُو بَکْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لِيُؤْذَنَ لَهُ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَکْرٍ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی التَّبَسُّمِ ثُمَّ قَالَ لَعَلَّکِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ
حبان بن موسی، عبد ﷲ ، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے اس سے نکاح کرلیا اور عورت نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول ﷲ میں رفاعہ کے پاس تھی اس نے مجھے تین طلاقیں دیدیں پھر مجھ سے عبدالرحمن بن زبیر نے نکاح کرلیا اور بخدا یا رسول ﷲ ان کے پاس اس پھندے کی طرح ہے اور اپنی چادر پکڑ کر دکھائی۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کےپاس بیٹھے ہوئے تھے اور ابن سعید بن عاص حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے تاکہ ان کو داخلے کی اجازت ملے، خالد ابوبکر کو آواز دینے لگے کہ اے ابوبکر اس عورت کو کیوں نہیں روکتا کہ بہ آواز بلند رسول ﷲ کے سامنے بول رہی ہے اور رسول ﷲ صرف مسکرا دیے اور فرمایا کہ شاید تو رفاعہ کے پاس جاناچاہتی ہے لیکن تو نہیں جاسکتی جب تک کہ تو اس سے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہوسکے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment