Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1040,TotalNo:5691


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
ان لوگوں کی دلیل جوجہالت یاتاویل کی بناء پر کسی کا فر کہنے والے کو کا فر نہیں کہتے۔
حدیث نمبر
5691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَلِيمٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ الصَّلَاةَ فَقَرَأَ بِهِمْ الْبَقَرَةَ قَالَ فَتَجَوَّزَ رَجُلٌ فَصَلَّی صَلَاةً خَفِيفَةً فَبَلَغَ ذَلِکَ مُعَاذًا فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا وَنَسْقِي بِنَوَاضِحِنَا وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّی بِنَا الْبَارِحَةَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَتَجَوَّزْتُ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ ثَلَاثًا اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی وَنَحْوَهَا
محمد بن عبادہ، یزید، سلیم، عمرو بن دینار، جابر بن عبد ﷲ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی ﷲ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کے پاس آکر ان کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دفعہ نماز میں سورہ بقرہ پڑھی، راوی کا بیان ہے کہ ایک شخص نے نماز سے نکل کر ہلکی نماز پڑھی، معاذ کو جب یہ معلوم ہوا تو کہا کہ یہ منافق ہے، اس شخص کو معلوم ہوا تو نبی صلی ﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! ہم ایسی قوم میں ہیں، کہ اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں اور اپنے اونٹوں سے سیراب کرتے ہیں، اور معاذ نے گذشتہ رات جو ہم لوگوں کو نماز پڑھائی تو اس میں سورہ بقرہ کی قرائت کی میں نے (الگ ہو کر) مختصر نماز پڑھ لی، تو انہوں نے کہا کہ میں منافق ہوں، چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے (معاذ سے) فرمایا اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے، تین بار آپ نے یہ الفاظ فرمائے (پھر فرمایا کہ) تو وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی وَنَحْوَهَا اور اسی قسم کی سورتیں پڑھا کر-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment