کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
نافرمانی کرنے والے سے ترک ملاقات کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر
5664
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَکِ وَرِضَاکِ قَالَتْ قُلْتُ وَکَيْفَ تَعْرِفُ ذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّکِ إِذَا کُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ بَلَی وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا کُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ لَسْتُ أُهَاجِرُ إِلَّا اسْمَکَ
محمد، عبدہ، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہافرماتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری خوشی اور ناراضگی کو پہچان لیتاہوں، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے پوچھا یا رسول ﷲ آپ کس طرح پہچان لیتے ہیں، آپ نے فرمایا تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو لاورب محمد اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو لاورب ابراھیم (قسم ہے رب کی) حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے کہا جی ہاں، میں صرف آپ کا نام چھوڑدیتی ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment