کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ بے شک اللہ عدل واحسان۔
حدیث نمبر
5652
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَکَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَذَا وَکَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ يَعْنِي مَسْحُورًا قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ وَفِيمَ قَالَ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَکَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا کَأَنَّ رُئُوسَ نَخْلِهَا رُئُوسُ الشَّيَاطِينِ وَکَأَنَّ مَائَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّائِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا تَعْنِي تَنَشَّرْتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي وَأَمَّا أَنَا فَأَکْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَی النَّاسِ شَرًّا قَالَتْ وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ
حمیدی، سفیان، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اتنے اتنے دنوں اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہو تھا کہ اپنی بیوی کے پاس ہو آئے ہیں، حالانکہ وہاں نہیں جاتے تھے، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ آپ نے مجھ سے ایک دن فرمایا اے ﷲ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں دریافت کرنا چاہتا تھا، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے پاؤں کے اور دوسرا میرے سر کے پاس بیٹھ گیا، جومیرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا ہوگیا ہے؟ اس نے کہا مطبوب ہے یعنی اس پر جادو کیا گیا ہے، پوچھا کس نے جادو کیا ہے، کہا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں؟ کہا بالوں کو نر کھجور کے چھلکے میں ڈال کر ذروان کے کنویں میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر، چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اس کنویں میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر، چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اس کنویں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے، جومجھے خواب میں دکھلایا گیا اس کے پاس کھجوروں کے درخت شیطان کے سروں کی طرح ہیں، اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کے نکالنے کا حکم دیا تو وہ نکال دیا گیا، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! پھر کیوں نہیں؟ یعنی آپ نے اس کو مشتہر کیوں نہیں کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ﷲ تعالی نے مجھے شفا دی اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے کسی کے شر کو مشتہر کردوں اور بیان کیا کہ لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک فرد تھا جویہود کے حلیف تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment