کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
وفد سے ملنے کے لئے زینت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
5667
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا الْإِسْتَبْرَقُ قُلْتُ مَا غَلُظَ مِنْ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ رَأَی عُمَرُ عَلَی رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَی بِهَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْکَ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فَمَضَی مِنْ ذَلِکَ مَا مَضَی ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَی بِهَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْکَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ يَکْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ
عبد ﷲ بن محمد، عبدالصمد، والد عبدالصمد، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے سالم بن عبد ﷲ نے کہا کہ استبرق کیا ہے؟ میں نے کہا موٹا اور کھردرا ریشمی کپڑا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبد ﷲ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے ایک آدمی کے استبرق کا حلہ دیکھا وہ اس کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! آپ اس کو خرید لیں اور جب وفد حاضر ہوں اس وقت آپ اس کو پہنیں، آپ نے فرمایا ریشم وہی پہنتا ہے جس (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو، اس واقعہ کو ایک مدت گذر گئی، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عمر کے پاس ایک حلہ بھیجا تو حضرت عمر نے اس حلہ کو لے کر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ نے یہ میری طرف بھیجا حالانکہ آپ اس جیسے کپڑے کے متعلق یہ کچھ فرماچکے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میں نے تم کو یہ اس لئے بھیجا ہے کہ اس کے ذریعہ سے مال حاصل کرو اور ابن عمراسی حدیث کی بناء پر نقش ونگار کو ناپسند کرتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment