کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان۔
حدیث نمبر
5678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ح و قَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ قَحَطَ الْمَطَرُ فَاسْتَسْقِ رَبَّکَ فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ وَمَا نَرَی مِنْ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَی فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَی بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّی سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَی الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ ثُمَّ قَامَ ذَلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّکَ يَحْبِسْهَا عَنَّا فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنْ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ مِنْهَا شَيْئٌ يُرِيهِمْ اللَّهُ کَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ
محمد بن محبوب، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس رضی ﷲ عنہ، ح، خلیفہ، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، حضرت انس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں جمعہ کے دن حاضر ہوا، اس وقت آپ مدینہ میں خطبہ دے رہے تھے، اس نے عرض کیا بارش رک گئی ہے، اس لئے اپنے رب سے پانی کی دعا کیجئے، آپ نے آسمان کی طرف دیکھا تو اس وقت ابر کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا، آپ نے بارش کی دعا کی، بادل کے ٹکڑے نمودار ہوئے اور ایک دوسرے سے مل گئے، پھر بارش دوسرے جمعہ تک اسی طرح ہوتی رہی کہ تھمتی ہی نہ تھی، پھروہی آدمی یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا، آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، اس نے عرض کیا کہ ہم تو اب غرق ہوئے، اس لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش روک دے، آپ ہنسے پھر فرمایا یا ﷲ ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا، یہ دویاتین بارآپ نے ارشاد فرمایا، بدلی مدینہ سے دائیں یابائیں پھٹکنے لگی اور ہمارے ارد گرد بارش ہوتی رہی لیکن مدینہ میں بارش نہیں ہوئی، ﷲ تعالی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی کرامت اور ان کی دعاؤں کی مقبولت دکھاتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment