کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
ترک ملا قات کا بیان۔
حدیث نمبر
5661
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِکِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا أَنَّ عَائِشَةَ حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَائٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَهُوَ قَالَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ قَالَتْ هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُکَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ الْهِجْرَةُ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا وَلَا أَتَحَنَّثُ إِلَی نَذْرِي فَلَمَّا طَالَ ذَلِکَ عَلَی ابْنِ الزُّبَيْرِ کَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ وَقَالَ لَهُمَا أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَی عَائِشَةَ فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّی اسْتَأْذَنَا عَلَی عَائِشَةَ فَقَالَا السَّلَامُ عَلَيْکِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ أَنَدْخُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ ادْخُلُوا قَالُوا کُلُّنَا قَالَتْ نَعَم ادْخُلُوا کُلُّکُمْ وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْکِي وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا کَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ وَيَقُولَانِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنْ الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَمَّا أَکْثَرُوا عَلَی عَائِشَةَ مِنْ التَّذْکِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَکِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْکِي وَتَقُولُ إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّی کَلَّمَتْ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِکَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً وَکَانَتْ تَذْکُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِکَ فَتَبْکِي حَتَّی تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
ابو لیمان، شعیب، زہری، عوف بن مالک بن طفیل بن حارث جو حضرت عائشہ رضی ﷲ عنھا زوجہ بنی صلی ﷲ علیہ وسلم کے برادر زادہ ہیں، سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے بیان کیا گیا کہ کسی بیع کے متعلق یا عطیہ کے متعلق جو حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کسی کو دیا تھا عبد ﷲ بن زبیر نے کہا کہ قسم ہے خدا کی عائشہ رضی ﷲ عنہا یا تو اس سے باز آجائیں ورنہ میں ان پر سختی کروں گا حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے پوچھا کیا واقعی انہوں نے ایسا کہا ہے لوگوں نے کہا ہاں! انہوں نے فرمایا ﷲ کے واسطے عہد کرتی ہوں کہ میں ابن زیبر سے کبھی گفتگو نہ کروں گی جب اس جدائی کو بہت عرصہ گزر گیا تو ابن زبیر نے سفارش کرائی حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا کہ بخدا میں نہ کسی کی سفارش قبول کروں گی اور نہ میں اپنی قسم توڑوں گی، پھر ابن زبیر پر یہ بات شاق گزری تو مسور بن مخزمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث (جو بنی زہرہ میں سے تھے) گفتگو کی اور ان دونوں سے کہا کہ تم دونوں کو ﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھ کو حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کے پاس لے چلو، اس لئے کہ ان کے لئے جائز نہ تھا کہ مجھ سے قطع تعلق کے لئے نذر مانتیں- مسور اور عبدالرحمن اپنی اپنی چادر اوڑھ کر ابن زیبر کو ساتھ چلے یہاں تک کہ دونوں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے داخلہ کی اجازت مانگی دونوں نے کہ السلام علیک ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ! کہا ہم سب اندر داخل ہوئے تو ابن زبیر پردے کے اندر گھس کر حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے لپٹ گئے اور ان کو ﷲ کا واسطہ دینے لگے کہ ان سے بات کیجئے اور ان کا عذر قبول کیجئے اور ان دونوں نے کہا کہ آپ جانتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ترک ملا قات سے منع فرمایا ہے کسی مسلمان کے لئے جائز نہین کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک ملاقا ت کرے، جب ان دونوں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کو سمجھایا اور اصرار کیا تو وہ بھی رو کر سمجھانے لگیں کہ میں نے نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ بہت سخت ہے لیکن یہ دونوں مصر رہے یہاں تک کہ ان سے بلوا کر چھوڑا- حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے اس نذر کے کفارے میں چالیس غلام آزاد کئے اس کے بعد جب بھی اپنی نذر کو یاد کرتیں تو روتیں یہاں تک کہ ان کو دوپٹہ آنسوں سے تر ہوجا تا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment