کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اللہ تعالی کا فرمانا کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ۔
حدیث نمبر
5680
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِکِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
ابن سلام، اسماعیل بن جعفر، ابوسہیل، نافع بن مالک بن ابی عامر، والد عامر، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے- اموسی بن اسماعیل، جریر، ابورجاء، سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جارہے تھے، وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں، قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment