کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
لوگوں کا ذکر کس طرح جائز ہے مثلا کسی کولمبا یا ٹھگنا کہنا۔
حدیث نمبر
5640
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَّی بِنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَی خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يُکَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا قَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتْ فَقَالَ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرْ قَالُوا بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَکَبَّرَ ثُمَّ وَضَعَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَکَبَّرَ
حفص بن عمر، یزید بن ابراہیم، محمد، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو ظہر کی نماز دورکعت پڑھائی، پھر سلام پھیردیا، پھر سجدہ گاہ کے آگے لکڑی کی طرف جا کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، جماعت میں اس وقت حضرت ابوبکر وعمر بھی تھے، وہ دونوں آپس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈرے اور لوگ جلدی سے دوڑتے ہوئے باہر نکلے اور کہنے لگے کہ نماز کم کردی گئی ہے، اس جماعت میں سے ایک شخص جس کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ذوالیدین کہتے تھے، انہوں نے عرض کیا کہ اے ﷲ کے نبی! کیا آپ بھول گئے یا نماز کم کردی گئی؟ آپ نے فرمایا نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم کی گئی ہے، لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! آپ بھول گئے ہیں، آپ نے فرمایا ذوالیدین ٹھیک کہتا ہے، پھر کھڑے ہوئے اور دورکعت نماز پڑھی پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہی، پھر پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے طویل سجدہ کیا، پھر اپنا سراٹھایا اور تکبیر کہی پھر پہلے سجدہ کی طرح اور اس سے طویل سجدہ کیا پھر اپنا سراٹھایا اور تکبیرکہی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment