کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
غیبت کا بیان۔
حدیث نمبر
5641
حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِيرٍ أَمَّا هَذَا فَکَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا هَذَا فَکَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَغَرَسَ عَلَی هَذَا وَاحِدًا وَعَلَی هَذَا وَاحِدًا ثُمَّ قَالَ لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا
یحییٰ بن وکیع، اعمش، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس گذرے تو فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہورہاہے اور کسی بڑے معاملہ کے سبب عذاب نہیں ہورہا، یہ قبر والا تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور وہ چغل خوری کرتا پھرتا تھا، پھر ایک تر شاخ منگوائی اور اس کے دوٹکڑے کئے پھر فرمایا کہ شاید کہ ﷲ تعالی ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment