کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اچھی گفتگو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5613
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ ذَکَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثُمَّ ذَکَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ شُعْبَةُ أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلَا أَشُکُّ ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
ابوالولید، شعبہ، عمرو، خثیمہ، عدی بن حاتم رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوزخ کاذکر کیاتو اس سے پناہ مانگی اور اپنا منہ بنالیا، پھر دوزخ کا تذکرہ کیا اور اپنا منہ بنا لیا، شعبہ نے کہا کہ دو مرتبہ آپ کے ایسا کرنے میں مجھے شک نہیں ہے، پھر فرمایا کہ آگ سے بچو اگرچہ ایک ٹکڑا چھوہارے ہی کے عوض کیوں نہ ہو تو اچھی بات کہہ دے (کہ یہ بھی صدقہ ہے) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment