کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دعاؤں کا بیان
باب
وبا اور تکلیف کو دعا دور کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر
5951
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ شَکْوَی أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَی الْمَوْتِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مَا تَرَی مِنْ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ فَبِشَطْرِهِ قَالَ الثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِکَ قُلْتُ آأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّکَ تُخَلَّفُ حَتَّی يَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ قَالَ سَعْدٌ رَثَی لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَکَّةَ
موسی بن اسماعیل،ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، عامر بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ ان کے والد (سعد) نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میری اس بیماری میں جس میں میں قریب الموت تھا حجتہ الوداع کے موقعہ پرمیری عیادت کوتشریف لائے، میں نے عرض کیا یا رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھے جو تکلیف ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں اور میں مالدار ہوں لیکن بجز ایک بیٹی کے کوئی وارث نہیں تو کیا میں اپنا دوتہائی مال صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا نہیں، تو میں نے پوچھا نصف مال (خیرات کردوں) آپ نے فرمایا تہائی بہت زیادہ ہے، ورثاء کومالدار چھوڑنا تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ ان کو محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سا منے دست سوال دراز کرتے پھریں اور تم ﷲ کی رضا مندی کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے، ﷲ اس کا اجر دے گا یہاں تک کہ اس لقمہ کا بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے، میں نے کہا میں اپنے دوستوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ جس قدر ﷲ کی مرضی کے پیش نظر عمل کرو گے درجہ اور بلندی میں زیادتی ہوتی جائے گی اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے، اور مسلمان تم سے نفع اٹھا ئیں گے اور کافروں کو نقصان پہنچے گا، یا ﷲ ہمارے صحابہ کی ہجرت پوری کردے اور ان کو پیچھے واپس نہ کر لیکن بے چارے سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن خولہ کی ہجرت پوری نہ ہوئی، سعد نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے مکہ ہی میں انتقال کے سبب بہت صدمہ ہوا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment