کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے۔
حدیث نمبر
5622
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَی الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ لَنْ تُرَاعُوا لَنْ تُرَاعُوا وَهُوَ عَلَی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ
عمرو بن عون، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی، حسین اور شجاع تھے، ایک رات مدینہ والے ڈرے لوگ اس آواز کی طرف چل پڑے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ان میں سب سے زیادہ آگے تھے، آپ آگے آگے تشریف لے جارہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے کہ بالکل نہ ڈرو بالکل نہ ڈرو، آپ ابوطلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپ کی گردن میں تلوار لٹکی ہوئی تھی، ابوطلحہ کا بیان ہے کہ میں نے اس کے بعد سے اس گھوڑے کو دریا کی طرح (تیز رفتار) پایا، (لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ کہا) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment