کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اپنے ساتھی سے بیان کرنا کہ اس کے متعلق کیا کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر
5648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِهَذَا وَجْهَ اللَّهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَی لَقَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
محمد بن یوسف، سفیان، اعمش، ابووائل، ابن مسعود رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم فرمایا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ بخدا محمد نے اس سے خدا کی (خوشنودی) کالحاظ نہیں رکھا، میں رسول ﷲ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ بیان کیا تو آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ ﷲ موسی علیہ السلام پررحم کرے کہ انہیں اس سے زیادہ ایذاء دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment