کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان۔
حدیث نمبر
6133
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ وَيَقُولُ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا مُوسَی الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا عِيسَی فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ وَقُلْ يُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ثُمَّ أُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا مِثْلَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ حَتَّی مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَکَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ عِنْدَ هَذَا أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ
مسد د، ابوعوانہ، قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا تو لوگ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت ﷲ کے در بار میں کرتا، تاکہ ہم اپنی اس جگہ سے نجات پاتے چناچہ وہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے کہ آ ب کو ﷲ نے اہنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھو نکی اور فرشتوں کو حکم دیا چناچہ انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تو آپ ہمارے پروردگار کی جناب میں ہماری سفارش کریں، آدم علیہ السلام فرمائیں گے میں اس لائق نہیں اور اپنی غلطی کاذکر کریں گے اور فرمائیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو ﷲ نے معبوث کیا، چناچہ لوگ ان کے پاس آ ئیں گے تو وہ اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جن کو ﷲ نے خلیل بنایا، چناچہ لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ اپنی غلطی کا ذکرکرکے فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے ﷲ نے کلام فرمایا، لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے میں آج اس قابل نہیں اور اپنی غلطی کاذکرکرکے فرمائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، لوگ عیسیٰ علیہ السلام آ ئیں تو فرمائیں گے، میں آج اس قابل نہیں تم محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ہیں تو لوگ میرے پاس آئیں گے- میں اپنے پر وردگار سے اجازت طلب کروں گا جب میں ﷲ کو دیکھوں گا تو سجدے میں گرپڑوں گا جب تک ﷲ چاہیے گامجھ کو (اسی حالت میں) چھوڑ دے گا، پھر کہاجائے گا کہ اپنا سر اٹھا ؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا اور کہو سناجائے گا اور شفاعت کرو قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا جو ﷲ مجھ کو سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو ﷲ میرے لئے حد مقرر فرمائے گا، پھر میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا، پھر میں لوٹ کر آؤں گا اور سجدے میں اسی طرح گر پڑوں گا، تیسری یا چوتھی بار اسی طرح کروں گا، بجز اس کے جس کو قرآن نے روک رکھا ہو گا، اور قتادہ اس کی تفسیر بیان کرتے تھے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے ہمیشہ رہنے کا حکم (قرآن میں) بیان کیا گیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment