کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
فرائض کی تعلیم کا بیان
باب
اس شخص کا گناہ جو اپنے مالکوں کی مرضی کے خلاف کام کرے
حدیث نمبر
6308
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عِنْدَنَا کِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا کِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَائُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ قَالَ وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
قتیبہ بن سعید، جریر، اعمش، ابراہیم، تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہمارے پاس کتاب ﷲ کے سوا کوئی چیز نہیں ہے جسے ہم پڑھیں سوائے اس صحیفہ کے اس کو انہوں نے نکالا تو اس میں زخموں اور اونٹوں کے متعلق چند باتیں لکھی تھیں، اور اس میں لکھا تھا کہ عیرسے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے- جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی نئی بات پیدا کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر ﷲ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہوگا اور مسلمانوں کا ایک ذمہ ایک ہے جس نے کسی قوم سے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوستی کی تو اس پر ﷲ تعالی اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہ کیا جائے گا اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے (یعنی اگر کسی مسلمان نے کسی کو پناہ دی تو گویا سب مسلمانوں نے اس کو پناہ دی) ایک ادنی مسلمان بھی یہ کرسکتا ہے جس نے کسی مسلمان کی پناہ کو توڑا تو اس پر ﷲ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہ ہوگا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment