کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
باب
چور کی توبہ کا بیان
حدیث نمبر
6352
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ فَقَالَ أُبَايِعُکُمْ عَلَی أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَی مِنْکُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَذَلِکَ إِلَی اللَّهِ إِنْ شَائَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ وَکُلُّ مَحْدُودٍ کَذَلِکَ إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ
عبد ﷲ بن محمد، جعفی، ہشام بن یوسف، معمر، زہری، ابوادریس، عبادہ بن صامت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک جماعت کے ساتھ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی آپ نے فرمایا کہ میں تم سے اس بات پربیعت لیتا ہوں کہ ﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نہ چوری کرو گے اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرو گے اور اپنے آگے پیچھے کوئی بہتان نہ اٹھاؤ گے- اور حکم شرع میں نافرمانی نہ کرو گے میں تم سے جس شخص نے اپنا وعدہ پورا کیا تو اس کا اجر ﷲ کے ذمہ ہے اور جوشخص ان میں سے کسی چیز کا مرتکب ہوا دنیا میں اس کو اس کی سزا دے دی گئی تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے اور پاکی کا ذریعہ ہے اور جس شخص کی ستر پوشی ﷲ نے کی تو وہ ﷲ کے اختیار میں ہے اگر چاہے تو اسے عذاب نہ دے اور اگر چاہے تو اس کوبخش دے- ابوعبد ﷲ (بخاری) نے کہا کہ اگرچہ ہاتھ کاٹے جانے کے بعد توبہ کرے تو اس کی شہادت مقبول ہوگی اور ہر وہ شخص جس پر حد لگائی گئی اس کا یہی حکم ہے کہ جب توبہ کرے تو اس کی شہادت مقبول ہوگی
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment