کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ جس نے کسی مومن کو متعمدا قتل کیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے
حدیث نمبر
6404
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْکِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ وَکَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَقِيتُ کَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ آقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَی يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا آقْتُلُهُ قَالَ لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ کَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ إِذَا کَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ کُفَّارٍ فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ فَقَتَلْتَهُ فَکَذَلِکَ کُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَکَ بِمَکَّةَ مِنْ قَبْلُ
عبدان، عبد ﷲ ، یونس، زہری، عطاء بن یزید، عبید ﷲ بن عدی، مقداد بن کندی، بنی زہرہ کے حلیف سے جو کہ رسول ﷲ و کے ساتھ جنگ بد رمیں شریک ہوئے تھے، روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اگر میں کسی کافر سے ملوں اور وہ میرے ساتھ جنگ کرے اور تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے، پھر درخت کی آڑ میں پناہ لے کر کہے میں ﷲ کا مطیع ہوں، (یعنی اسلام لے آیا) تو کیا اس کے اس طرح کہنے کے بعد اس کوقتل کردوں؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسکو قتل نہ کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا، پھر یہ کلمہ اس نے میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد کہا ہے، کیا میں (پھر بھی) اس کوقتل نہ کرو- آپ نے فرمایا کہ ہاں اسے قتل نہ کرو، اگر تم نے اسے قتل کردیا تو وہ تمہاری جگہ قتل کرنے سے قبل والی حالت میں ہوگا اور تم اس کے کلمہ کہنے سے قبل والی حالت میں ہوگے، حبیب بن ابی عمرہ نے سعید سے انہوں نے ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مقداد سے فرمایا کہ جب کوئی مومن شخص اپنے ایمان کو کافروں کے ساتھ چھپائے ہوئے ہوا اور اسنے اپنے ایمان کو ظاہر کردیا پھر تم نے اس کو قتل کردیا تو اسی طرح تم بھی مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتے پھرتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment