کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قسموں اور نذروں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کس طرح کی تھی؟'الخ
حدیث نمبر
6200
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا کَانَ مِمَّا عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَائٍ أَوْ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِکَ أَوْ خِبَائِکَ شَکَّ يَحْيَی ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ أَهْلُ أَخْبَائٍ أَوْ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِکَ أَوْ خِبَائِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيکٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنْ الَّذِي لَهُ قَالَ لَا إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ
یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (ایک وقت تھا کہ) کہ روئے زمین پر مجھے سب سے پسند یہ تھا کہ کہ آپ کے خیمے والے (یعنی آپ کے تابع لوگ) ذلیل ہوں لیکن آج مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی بات نہیں کہ کہ آپ کے خیمے کے لوگ غالب رہیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس میں ابھی اور ترقی ہوگی، ہند نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہے کیا میرے لئے اس بات میں کوئی حرج نہیں، اگرمیں اس کے مال میں سے (اس کی اولاد کو) کھلاؤں، آپ نے فرمایا نہیں بشرطیکہ دستور کے مطابق ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment